میرے
لئے مدد کرنا اہم ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو مجھے کرنا
سکھائی گئی تھی۔ مجھے لگا کہ اپنے پیاروں کی مدد کرنا مجھ پر لازم ہے۔ نارانون میں
آنے سے قبل میں مدد کرنے کے حوالے سے خوفناک حد تک شش وپنج کا شکار تھی۔
مجھے
یہ سمجھنے میں بہت زیادہ سوچ بچار اور وقت لگا کہ مجھے دوسروں کی مدد اس طریقے
سے کرنی چاہیئے جس سے ان کے لیے میرا پیار ظاہر ہو اور یہ نقصان دہ نہ ہو اور بدلے
میں مجھے کوئی توقع نہ ہو۔
میں
نارانون میں مدد کا ایک نیا طریقہ سیکھ رہی ہوں، ایک ایسا طریقہ جو مجھے اُمید ہے
کہ میرے پیاروں کو جرآت، خودمختاری، بھرپور زندگی، آزادی اور خوشی کے راستے پر لے
جائے گا۔
دوسروں
کی مدد کے بارے میں جو میری سوچ تھی وہ حقیقتاً ان کی زندگی میں مداخلت یا نشے میں معاونت تھی۔ آج
جب میں کسی کی مدد کا سوچتی ہوں، میں پہلے رُکتی ہوں اور سوچتی ہوں:
میں
مدد کیوں کر رہی ہوں؟
میں
کس کی مدد کررہی ہوں؟
کیا
یہ واقعی مدد ہے؟
کیا
انہوں نے مجھے مدد کے لئے کہا ہے؟
میں
اپنے آپ سے یہ بھی پوچھتی ہوں کہ جو مدد میں دے رہی ہوں کیا وہ پتھر کی سل جیسی تو نہیں جو
انہیں نیچے دبا دیتی ہے اور وہیں ساکت رکھتی ہے، یا میری مدد بہار کے موسم میں چلنے والی ہوا کی طرح ہے جو آہستہ سے بچے
کی پتنگ کو اوپر اُٹھانے کی مدد فراہم کرتی ہے۔
میں
نارانون میں سیکھ رہی ہوں کہ پورے خاندان کو متاثر کرنے والی نشے کی بیماری
میں میں بھی کردار ادا کرتی ہوں اور میرے پاس کئی اختیارات موجود ہیں۔ جب مجھے واضح طور پر معلوم ہو
کہ میں کیا کردار ادا کرتی ہوں تو میں رُک سکتی ہوں اور عمل کرنے سے پہلے
دیکھ سکتی ہوں کہ میں کیا کرنے جارہی ہوں اور اپنا ردعمل منتخب کر سکتی ہوں۔
اب
میں جانتی ہوں کہ جب میں ناراض ہوں یا اپنی مدد سے نتائج میں
کسی تبدیلی کی توقع کر رہی ہوں، تب یہ نشئی کی بیماری میں معاونت ہو گی، اس لئے
مجھے یہ نہیں کرنا چاہئیے۔ جب میں مداخلت کرتی ہوں تو میں صرف نشئی کی جدوجہد کو
طول دے دیتی ہوں۔
آج
کی سوچ:
دوسروں
کو ذاتی مضبوطی اور خودمختاری دلانے میں مدد دینا اصل مدد ہے۔ نشئی کی مدد کرنا کہ وہ
اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا نہ کر سکے یا ان کے لئے کچھ ایسا کرنا جو وہ اپنے
لئے کر سکتے ہوں ایسا ہی ہے جیسا کہ انہیں مستقل طور پر بیساکھی دے دی جائے۔
’’اُن
(نشئی) کے لئے محبت اور ہمدردی کو کھوئے بغیر ہم کچھ دیر کیلئے ایسا کر سکتے
ہیں کہ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے کچھ ’نہ کریں‘۔ ایسا کرنا صحیح ہے۔ یہ
ڈرامائی انداز میں تبدیلی نہیں لاتا اور جب ہم کچھ ’کرتے تھے‘ تو بھی کوئی ڈرامائی
تبدیلی نہیں آتی تھی۔‘‘ ~ نارانون بارہ اقدام پروگرام
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں