مجھے
لگتا ہے کہ میں اپنی بحالی کی نیم دلی سے کوشش کرتا رہا ہوں۔ میں نے نشئی کو جانے
دیا، لیکن کیا میں نے یہ عمل محبت کیساتھ کیا؟ میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک اطمینان
اور سکون محسوس کرتا ہوں۔ میں نہ نشئی کو فون کرتا ہوں نہ ہی نشئی سے رابطہ کرنے
کی کوشش کرتا ہوں۔
میں
نشئی کے بارے میں جنونی نہیں ہوں، لیکن کیا میں نے اس سے محبت سے لاتعلقی اختیار
کی ہے؟ میں
سوچتا ہوں کہ کیا میرے غصے کے کثیف ٹکڑے انتہائی غیر مناسب اوقات میں اپنا چہرہ
دکھائیں گے اور میں پاگل اور قابو سے باہر ہو جاؤں گا؟ مجھے خود پر شک ہو رہا ہے۔
میں
سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنی خامیوں کی فہرست کسی بھی ضرورت کے وقت بنا سکتا ہوں۔ یہ
تجویز دی گئی ہے کہ میں تین طرح کی فہرستیں استعمال کر سکتا ہوں:
(1 سپاٹ چیک: روزانہ اپنے رویے اور سلوک کو کچھ دیر کے
لئے ٹھہرکر جانچنا۔
2)
روزانہ کی فہرست: ہر دن کے آخر پر ٹھہرنا اور تجزیہ کرنا کہ سارے دن میں کیا کچھ
ہوا اور میں نے کیسا ردعمل اپنایا۔
3) وقتاً
فوقتاً طویل المعیاد فہرست، اپنی زندگی پر سوچ بچار کے لئے خاص دن مقرر کرنا۔ عمومی
طور پر ہم ایسا کام کسی خاص مقام مثلاً اپنے گھر سے دور جا کر کرتے ہیں۔
نارانون
کا لٹریچر پڑھنے سے میں نے سیکھا کہ میں ہر وہ کام کر سکتا ہوں جو مجھے کرنے کی
ضرورت ہے۔ یہ میرا حق ہے۔ مجھے ہر وقت کسی کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں
اپنی ضرورت پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے فیصلہ کر سکتا ہوں کہ اس وقت
میرے لیے کیا سب سے بہتر ہے۔
اگر مجھے
کسی کی مدد چاہیئے یا ضرورت ہو تو جب میں محسوس کروں کہ ایسا کرنا اس وقت میرے لئے
ٹھیک ہے تو میرے پاس اس کا اختیار موجود ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتا ہوں کہ میرے پاس
یہ اختیار موجود ہے اور مجھے یہ بات پسند ہے۔
آج کی سوچ:
میں
نے محسوس کیا کہ جب میں اپنے پروگرام کی مشق کرتا ہوں تو میں پُرسکون رہتا ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں