جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

بڑے ہونا

نارانون کے اجتماعی تجربات نے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی خوبیوں کو پہچاننے میں میری مدد کی۔ چوتھے قدم پر کام کرنا مشکل ہے لیکن ترقی کے اس عمل میں یہ بہت ضروری ہے۔
میرے کردار کے نقائص نے مجھے کافی لمبے عرصے تک غلام بنائے رکھا۔ میں اپنے پیاروں کے بُرے رویوں کو برداشت کرتی کیونکہ میں مناسب حدود کا تعین کرنے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے مظلوم کا کردار اپنایا اور دوسروں پر الزام تراشی اور انہیں شرمندہ کرنے کا کھیل چُنا۔ یہ کام مجھے تھکا دیتا اور میری ساری توانائی ضائع کر دیتا تھا۔
میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے سوالوں کی تلاش کے لیے اپنے اندر جھانکنا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ میں خودترسی چھوڑوں اور ’’میں ہی کیوں؟‘‘ کہنا بند کردوں۔
ماضی کی غلطیاں میری شخصیت کا تعارف نہیں۔ وہ میرے سیکھنے کے عمل کا حصہ تھیں۔ میرا احساسِ جرم اور شرمندگی صرف اس وقت مجھے ترقی کرنے سے روک سکتے ہیں جب میں انہیں اجازت دوں۔ یہ احساسات مجھے اس وقت تک پریشان یا کنٹرول نہیں کر سکتے جب تک میں بحالی کے ’ایمانداری‘ کے طریقہ کار کو استعمال کرتی رہوں۔
اب مجھ میں اتنی جرآت ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کو دیکھوں، ان کے بارے میں بات کروں اور ان پہلوؤں کو بہتر بناؤں۔ میری توانائی بحال ہو رہی ہے۔ میرے کردار کے نقائص بدل کر اب میری شخصیت کا خاصہ بن رہے ہیں۔ میرے دردناک ماضی کی طرح اب صحت مند خدوخال بھی میری ذات کا حصہ ہیں۔
میں سیکھ رہی ہوں کہ کس طرح نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگی میں توازن پیدا کروں۔ زندگی کئی دھاگوں سے بنی ایک تصویر ہے۔ وہ زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں جو مکمل طور پر میری ہے۔ اس کے ذریعے میں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا۔ میں ٹھیک ہوں۔ خدا نے اچھا کام کیا۔ میں اپنے آپ میں ہی شاہکار ہوں۔ میں دوبارہ سے خود کو مکمل محسوس کرتی ہوں، تقریباً مکمل۔ یہ ایک عمل ہے۔
آج کی سوچ:
بحالی کا مطلب روحانی ترقی پانا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر کام شروع کیا جائے۔

’’اگر تم خود سے نہیں پوچھو گے کہ تم کیا جانتے ہو تو تم دوسروں کو ہی سُنتے رہو گے اور تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ تم اپنا سچ تو سُن ہی نہیں سکوں گے۔‘‘ ~ سینٹ بارتھلومیو

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں