اتوار، 18 اکتوبر، 2015

تشدد

تشدد کئی شکلوں میں ہوتا ہے مثلاً جسمانی، زبانی، ذہنی اورنفرت آمیز گندے طریقے سے گھورنا۔ میں ان تمام قسموں کے تشدد سے گزری ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے دادا، جو کچھ حد تک میری پرورش کے ذمہ دار تھے، مجھے دھکے دیتے، اونچی آواز میں چیختے اور چٹکیاں کاٹتے۔ وہ شراب کے عادی تھے اور زیادہ تر شراب کے نشے میں مدہوش رہتے تھے۔ ان کا تشدد یہاں تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ ہم بچوں کا جنسی استحصال بھی کرتے۔

جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میری ماں نے اپنا سارا دکھ مجھ پر نکالا۔ اس کی توقع تھی کہ میں اُس کی سب سے زیادہ مددگار بنوں کیونکہ اسے چار بچوں کو پالنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں میں نے ایک ایسے آدمی سے شادی کر لی جو نہ صرف پُرتشدد تھا بلکہ نشئی بھی تھا۔

مجھے یقین ہے کہ ان تمام سالوں میں تشدد کی تمام اقسام کے تجربے نے مجھے اتنی اندرونی مضبوطی دی کہ میں اپنی زندگی کو جاری رکھ سکوں۔ میں جانتی ہوں کہ مجھے دوسروں کو مزید زیادتی کی اجازت دینے یا اسے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ بات اس لیے جانتی ہوں کیونکہ میں بہتر سلوک کی حقدار ہوں۔

میں نے دوسروں کا دکھ بھی سمجھنا اور محسوس کرنا شروع کر دیا۔ میں سُننے، سیکھنے اور کسی کے بارے میں بنا رائے قائم کیے اس کی رہنمائی کرنے کے قابل ہوں۔ مجھے اعتماد ہے کہ نارانون میں کسی سے اپنی بات کہنا میرے زخم جلد بھرنے کا ایک طاقتورنسخہ ہے۔

اپنی اس نئی اُمید اور مدد کے ساتھ میں خود کو آزاد اور اس قابل سمجھتی ہوں کہ میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا جاری رکھوں۔ میں نے نارانون میں سیکھا کہ اپنی زندگی کو صحتمند اور بہتر طریقے سے گزارنے کے لئے میرے پاس اپنے فیصلے کرنے کی طاقت ہے۔

آج کی سوچ:

کوئی بھی زیادتی کا مستحق نہیں؛ ہم سب محفوظ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے مزید مظلوم نہیں بنتی رہوں گی۔ میں ماضی کی زیادتیوں سے بحالی کے لئے مدد حاصل کرنے کا انتخاب کروں گی اوراپنے لئے ایک بہتر زندگی بناؤں گی۔ میں دوسروں کی بھی ایسا کرنے میں مدد کروں گی۔

’’گھریلو تشدد کسی کے ساتھ بھی، کبھی بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ لیکن یہ ہوتا ہے اور جب یہ ہوتا ہے تو مدد بھی موجود ہوتی ہے۔‘‘ ~ ڈومیسٹک وائلنس ہینڈ بک

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں