یہ
ایک فرضی خودکلامی ہم میں سے اُن لوگوں کی ہو سکتی ہے جو نشے کے اثرات سے بحال ہو
رہے ہوں:
’’میں‘‘
کون ہوں؟ ’’میں‘‘ جو’’اُن‘‘ کا خیال رکھتا ہوں۔ جب ایک بار’’وہ‘‘ ٹھیک ہو جائیں گے
تو ’’میں‘‘ بہت بہتر ہو جاؤں گا۔ ’’میرے‘‘ لئے کہاں وقت ہوتا ہے جب ’’اُن‘‘ کیلئے
بہت کام کرنے والا ہو؟ ’’وہ‘‘ ’’میری‘‘ تعریف نہیں کرتے؛ ’’وہ‘‘ ان اچھے کاموں کو
نہیں دیکھتے جو ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ کیلئے کررہا ہوں۔ ’’میں‘‘ جانتا ہوں ’’انہیں‘‘ کس
چیز کی ضرورت ہے، ’’انہیں‘‘ صرف سُننا چاہیئے۔ ’’وہ‘‘ سوچتے ہیں کہ ’’وہ‘‘ خود کی
دیکھ بھال کر سکتے ہیں، لیکن ’’میرے‘‘ بغیر ’’وہ‘‘ کہاں ہوں گے؟ ’’وہ‘‘ بار بار
ایک جیسی غلطیاں کرتے رہیں گے اور ’’مجھے‘‘ ان کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنا پڑتا
ہے۔ ’’میں‘‘ غلطیاں نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ بہت زیادہ ’’اُن‘‘ کی غلطیوں میں ہی مصروف
رہتا ہوں۔ ’’وہ‘‘ سُنیں گے؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘ بناؤں گا۔ ’’میں‘‘ کوشش کرنا ترک
نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘‘ بہتر بنانے کے لئے راستہ ڈھونڈ نکالوں گا۔ درد دور
ہو جائے گا، تب ’’میں‘‘ تمام وقت خوف میں مبتلا نہیں رہوں گا۔ ’’وہ‘‘ دیکھ لیں گے
کہ ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ سے کتنی محبت کرتا ہوں، ’’میں‘‘ نے ’’اُن‘‘ کے لئے کتنی قربانی
دی ہے۔ تب ’’وہ‘‘ ’’مجھے‘‘ خوش کردیں گے، اور ہم سب بھی بہتر ہوجائیں گے۔
آج
کی سوچ:
ہم
شاید یہ سوچتے ہیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داریاں اُٹھانے سے زیادہ آسان دوسروں کے
رویے کا شکار ہونا ہے۔ نارانون ہماری توجہ ہماری زندگی میں موجود نشئی سے ہٹا دیتا
ہے اور اپنے آپ پر مرکوز کرواتا ہے۔ اپنے اندر جھانکنا اور جو بھی ہم سوچ اور محسوس
کر رہے ہوں اس کی ذمہ داری لینا بہت خوفناک لگتا ہے۔ نارانون ہمیں ان سب کو دیکھنے
کیلئے محفوظ ماحول اورہماری بڑھوتری کے لئے ہمیں ایک پیارا سا پروگرام دیتا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں