میں نے نارانون میں
سیکھا ہے کہ نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے آپ کو حوصلہ دینے کے بہت سے طریقے ہیں۔ جب میں میٹنگز میں جاتی ہوں، لٹریچر پڑھتی
ہوں، اقدام پر کام کرتی ہوں اور اپنی بالاتر طاقت پر ایمان رکھتی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مگر نشئی کا کیا کریں؟ اگر
نشئی پروگرام میں نہ آنا منتخب کرلیتا ہے تو میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے علاوہ
کوئی نہیں جو اس کی حوصلہ افزائی کرے۔ میں جانتی ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی
جو نشئی کو بدل ڈالے یا اس کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کرے، لیکن میں تعمیری
انداز میں اسکی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح کرسکتی ہوں:
· میں اُس کی زندگی کو کنٹرول
کرنا یا چلانا بند کر سکتی ہوں۔ اُسے فیصلہ کرنا، گرنا، ناکام ہونا اور خود سیکھنے
دے سکتی ہوں۔ شاید میرا اُسے اپنے کاموں کے نتائج سے بچانے کا مطلب ہے کہ اُسے
اپنی پستی تک پہنچنے اور مدد مانگنے میں مزید لمبا عرصہ لگے گا۔
· میں اُس پر یقین کر
سکتی ہوں کہ وہ بحالی میں کامیاب ہوگا۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے جو بھی کہتا
ہے میں اس پر یقین کروں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا مثبت رویہ اور توانائی اُس پر اثر کرے گی۔
· میں اپنی توقعات کم
رکھتی ہوں۔ بہت زیادہ توقعات کی بجائے میں یہ نوٹ کرتی ہوں کہ نشئی نے کہاں سے
کہاں تک ترقی کی، ناکہ یہ
کہ میری اس کی ترقی کے بارے میں کیا توقعات تھیں۔
· میں اس کی کامیابیوں،
پیش رفت اور ترقی پر اس کی زبانی حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔ میں اچھی چیزوں کے لئے تعریف کرتی ہوں چاہے
وہ چیزیں
متوقع ہو یا معمولی۔
· میں
یقین رکھتی ہوں کہ بالاتر طاقت نشئ کی دیکھ بھال کرے گی اور اسی وجہ سے میں نشئ کی
بحالی کے عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔
آج کی سوچ:
نشئی کی چند ایسے
طریقوں سے حوصلہ افزائی کے ذریعے میں نشئی کی بحالی کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتی
اور اپنے آپ کو اس جھوٹی
ذمہ داری کہ شاید میں نشئی کو منشیات سے پاک کرنے کوشش کرسکتی ہوں سے نجات دلا کر سکون
اور اطمینان میں ہوں۔
’’محبت کرو اور حالات
کو تنہا چھوڑ دو۔‘‘ ~ نارانون نیلا کتابچہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں