کچھ
دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے نشے کی لت بارے بات کررہی تھی۔ اُس نے مجھ سے پوچھا
کیا میں بالاتر طاقت پر یقین رکھتی ہوں۔ میں نے جواب دیا ہاں۔ میں نے یہ بھی بتایا
کہ جب سے نشے کی بیماری میری زندگی میں شامل ہوئی ہے، میں پہلے سے زیادہ اپنی
بالاتر طاقت کے قریب ہو گئی ہوں۔
میں
نے کہا کہ نشہ کی لت کو قابو کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ میں نے اپنے بیٹے کی
منشیات کی لت سے نمٹنے کی چھ سال کوشش کی اور جب میں اُسے فتح نہیں کر سکی تو میں
نے مدد مانگی۔ میں اپنی پستی میں گر چکی تھی اور میں مزید تکلیف برداشت نہیں کرنا
چاہتی تھی
نارانون
ہی وہ مدد تھی جس کی مجھے ضرورت تھی اور مجھے یقین ہے کہ خدا نے میری صحیح سمت میں
رہنمائی کی۔ اب میں تنہا نہیں ہوں۔ ایک میٹنگ میں ایک ساتھی اپنے بیٹے کی حرکات کی
وجہ سے اتنی پریشان تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے تازہ ترین تباہ کن رویے کی داستان
سناتے ہوئے ہمارے سامنے رو پڑی۔
اُس
نے خصوصی طور پر بتایا کہ وہ میٹنگ میں آنے کا انتظار کر رہی تھی کہ یہاں آکر اپنے
دل کا غبار نکالے کیونکہ ہم سمجھ جائیں گے کہ وہ کیسا محسوس کررہی تھی۔ جب میں
کہتی ہوں کہ اب میں اکیلی نہیں ہوں تو میرا مطلب یہی ہوتا ہے۔
نارانون
میٹنگز میں جا کر میں نے اپنی بالاتر طاقت کو ہر ساتھی میں دیکھا۔ میں نے
نارانون لڑیچر پڑھ کر، میٹگز میں سب کی شئیرنگ سن کر، اپنے سپانسر کے ساتھ کام کرکے
جنہوں نے نارانون پروگرام کو سمجھنے میں میری مدد کی اور جن کو میں اپنی مشکلات،
اپنے راز بتاتی ہوں اور جن سے ہمدردی کے الفاظ سُنتی ہوں، ایک بہتر زندگی گزارنا
سیکھی۔
آج
کی سوچ:
کیونکہ
میں اکیلی نہیں ہوں اس لیے میں تکلیف اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر
طریقے سے نمٹ سکتی ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں