‏دوسروں کو بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏دوسروں کو بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 7 اکتوبر، 2015

سکون کی جگہ

جب میں نارانون میں پہلی دفعہ آئی تھی تب میں اپنا اکثر وقت نشئی کے بارے میں سوچتے اور پریشان ہوتے ہوئے گزارتی۔ خاص مشکل اوقات پر میں نے’’سکون کی دعا‘‘ جو میں نے سیکھی تھی، کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اسے بار بار پڑھتی کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ اس کے علاوہ میں کیا کروں۔
میں معلوم نہیں کرپا رہی تھی کہ میں کونسی چیزوں کو بدل سکتی ہوں اور کونسی چیزوں کو نہیں بدل سکتی۔ ایک دن میٹنگ میں ایک ساتھی نے کہا کہ اگر وہ اپنے پیروں کے گرد ایک گول دائرہ کھینچے تو وہ اس دائرے کے اندر کی چیزوں کو بدل سکتی ہے اور ہر وہ چیز جو اس دائرے سے باہر ہے ان چیزوں کو نہیں بدل سکتی۔
 مجھے یہ جان کر بہت اطمینان ہوا کہ مجھے دوسرے لوگوں کا بوجھ اپنی کمر پر لادنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کوئی اپنی مرضی اور اپنی ذمہ داریوں کا مالک ہے۔
میں دوسروں کو بدلنے کی کوشش کو چھوڑنا سیکھ رہی ہوں اور اس عمل سے اپنے اندر سکون کی جگہ پاتی ہوں۔ یہ جگہ میرے لئے بہت قیمتی ہے اور پرسکون رہنا اب میری زندگی کی اولین ترجیح ہے۔

آج کی سوچ:
میری بحالی میرے لئے بہت اہم ہے۔ میں خود کو دیکھو گی کہ جہاں میں اپنے آپ کو تبدیل کر سکتی ہوں تبدیلی کروں گی تاکہ نارانون میں میری روحانی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہے۔

’’جب ہم اپنے ذہن میں سکون، ہم آہنگی اور توازن پیدا کر لیں تو ہم اسے اپنی زندگیوں میں بھی حاصل کرلیں گے۔‘‘ ~ لوئیز ہے

منگل، 1 ستمبر، 2015

میٹنگز


نارانون میٹنگز میں شامل ہونا میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ چاہے میں صرف حاضری لگانے اورخالی جگہ پُر کرنے جاؤں، یا اپنی کہانی بیان کروں، یا صرف سُنتا رہوں، میں میٹنگز میں جانے سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ میں فوری رائے قائم کرنے سے پرہیز کرنا اور متحمل رہنا سیکھتا ہوں۔ میں اُن لوگوں سے بھی سیکھتا ہوں جن سے سیکھنے کی مجھے کم توقع ہوتی ہے، حتی کہ نئے آنے والوں سے بھی۔

ایک بار ایک نووارد اپنی کہانی بہت تفصیل سے بیان کر رہی تھی، نشے میں ماونت کی وہ تمام چیزین جو وہ اپنے پیارے مریض کے ساتھ کر رہی تھی۔ اُس نے بتایا کہ آخر میں وہ بہت الجھن کا شکار تھی کہ ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑا اور نشئی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

میرے لئے یہ دیکھنا بہت آسان تھا کہ نشئی وہی سب کچھ کر رہا ہے جو ایک نشئی کرتا ہے اور وہ بھی وہی سب کچھ کر رہی ہے جو نشے میں معاونت کرنے والے کرتے ہیں۔ مجھے واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ غلطی اس لڑکی کی طرف سے ہے کہ وہ یہ توقع کر رہی ہے کہ اس کا رویہ نشئی کے رویے کو بدل دے گا۔

اچانک مجھے یاد آیا کہ اُسی دن صبح میں نے بھی اپنے آپ کو منطق دے کر یہ طے کیا تھا کہ میں اپنی زندگی میں موجود نشئی کے لیے کچھ ایسا خاص کروں کہ اسے اپنے رویے کے نتائج سے زیادہ پریشانی نہ اٹھانا پڑے۔ میں نے سوچا کہ میں نے نشئی کی مدد کے لئے ایسا حل نکال لیا ہے جو اسکی نشے میں معاونت نہیں کرے گا۔

جب میں نے اس نووارد کو بالکل وہی چیز کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جو میں کرنے کا سوچ رہا تھا تو مجھے واضح نظر آنے لگا کہ میری سوچ کتنی بیوقوفانہ تھی۔ میں اضطراری طور پر اپنا پرانا رویہ اختیار کرنے جا رہا تھا۔

آج کی سوچ:

جب میرا میٹنگ میں جانے کا دل نہ چاہ رہا ہو تو اسی وقت مجھے میٹنگ میں جانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جب مجھے یہ سوچ آئے گی کہ وہاں میں کوئی کام کی چیز نہیں سن رہا تو میں چیزیں غور سے سنوں گا۔ جب میں یہ سوچوں گا کہ میرے پاس بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو اس وقت میں شئیر کروں گا۔ میں میٹنگز میں جانے سے سیکھتا ہوں، سکھاتا ہوں اور بعض اوقات صرف وہاں ہونے کی مشق کرتا ہوں۔

’’ہر کسی کو ہر دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ ~ برٹولٹ بریخٹ