منگل، 8 ستمبر، 2015

میں تنہا نہیں

میں اپنی بیٹی اور اس کی منشیات استعمال کرنے کی عادت کے ساتھ نمٹنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ وہ کبھی نرم دل رکھنے اور پیار کرنے والی بچی ہوا کرتی تھی مگر اب وہ بہت بدل گئی ہے۔ میری طرح اس کی زندگی بھی بدنظمی کا شکار ہو گئی ہے۔ جب میں نے نارانون میٹنگز میں جانا شروع کیا تو میں نے خود سے پوچھا ’’ یہ میٹنگز آخر میرے لئے کیا کررہی ہیں؟‘‘

اپنی بیٹی کو منشیات استعمال کرتا ہوئے دیکھنے کا درد کبھی نہیں جائے گا، لیکن نارانون میٹنگز میں شرکت نےصحیح معنوں میں اس درد کی تکلیف سے نمٹنا سیکھنے میں میری مدد کی ہے۔ اپنے پروگرام کی مدد سے میں اپنی کھوئی ہوئی زندگی دوبارہ حاصل کر رہی ہوں۔ اب میری زندگی کا دارومداد میری نشئی بیٹی کی بحالی، یا اُس نشے کی عادت سے پیدا ہونے والی دیوانگی پر نہیں۔

نارانون نے مجھے دکھایا کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ جب میٹنگز میں باقی ارکان اپنی کہانیاں بتاتے ہیں تو مجھے پتا چلتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی اپنے پیاروں کی نشے کی وجہ سے میری طرح کے یا اس بھی برے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ میری صورتحال اس سے بھی بُری ہو سکتی تھی۔

 میں دیکھتی ہوں کہ پروگرام نے ہر اس شخص کو مضبوط بنایا جس نے اقدام پر عمل کیا ۔ نارانون کے ارکان کئی مختلف صورتحال میں نشئیوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ آج جو کچھ بھی میرے پاس ہے میں اس کے لئے شکرگزار ہونا اور یقین پیدا کرنا سیکھ رہی ہوں کہ میں بھی اپنے مسائل سے نمٹنے کے لئے طاقت حاصل کر سکوں گی۔

آج کی سوچ:

میں ہر روز اندھیرے کی نسبت روشنی زیادہ دیکھ سکتی ہوں۔

’’تمام خوبصورت چیزوں پر اپنا یقین پختہ رکھو؛ سورج پر جب وہ چھپ جائے، بہار پر جب وہ چلی جائے۔‘‘، روئے گِلسن

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں