ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

جرأت

ایک شام میٹنگ میںجرأتکے موضوع پر بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے صدر نے کہا ان کے خیال میں بار بار میٹنگز میں آنا جرأت کا ایک مظاہرہ ہے۔ میں اس سے متفق ہوں لیکن یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ ایک اور عنصر بھی ہے: مصمم ارادہ۔ جرأت اور مصمم ارادے کی ضرورت ہے۔
جب میں پہلی بار نارانون میٹنگز میں آیا تو میں اپنی زندگی میں موجود نشی کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرچکا تھا۔ کسی بھی کوشش نے کام نہیں کیا۔ میں کسی بھی شکل میں خاص قسم کے ’’علاج‘‘ کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا اس لیے مجھے یقیناً جرأت اور پختہ ارادے کی ضرورت تھی۔
جب میں پہلی بار نارانون میٹنگز میں آیا تو دوسروں نے کچھ ایسی باتیں کیں مثلاً نشہ ایک بیماری ہے، یہ اخلاقی مسئلہ نہیں اور انسانی فطرت حقیقت سے انکار کی رکاوٹیں لا کھڑی کرتی ہے۔ حقیقت کا مکمل سامنا کرنے کے جس تجربے سے میں گزر رہا تھا اس نے مجھے جسمانی اور جذباتی طور پر اتنا مفلوج کر دیا تھا کہ میں صحیح طرح سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
 جب میں نے میٹنگز میں جانا اور دوسروں کو سننا جاری رکھا تو میں نے ایسے حالات بھی سنے جو مجھ سے بدتر ہیں۔ میں نے حقیقت سے انکار کی جگہ تبدیلی کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ارکان کو اپنی نشے کی خوفناک کہانیاں شیئر کرتے سُنا مگر پھر بھی وہ سادہ چیزوں پر ہنسنے کے قابل تھے۔ وہ وہاں اطمینان کی اس دولت کے ساتھ بیٹھنے کے قابل ہیں جو بارہ اقدام پر کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
 آج کی سوچ:
 وہ سکون و اطمینان جو دوسروں نے حاصل کیا، اسے حاصل کرنے کی خواہش اتنی شدید ہو گئی کہ میں میٹنگز میں بار بار آتا رہا۔ اطمینان کی خواہش نے جلد ہی میرے غصے، غم اور مایوسی کے احساسات کی جگہ لینی شروع کردی۔ آہستہ آہستہ ایک نیا شخص سامنے آنا شروع ہو گیا۔ تبدیلی واقع ہو رہی تھی۔
 ’’جرأت اور ثابت قدمی ایک جادوئی تعویز ہیں جن کے سامنے مشکلات ختم اور رکاوٹیں ہوا میں غائب ہو جاتیں ہیں۔‘‘ ~ جان کوئنسی آڈمز

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں