ایک حالیہ میٹنگ کا موضوع نواں قدم تھا۔ شروع میں میں سوچتا تھا کہ میری بیٹی ان تمام تکلیفوں کے لیے مجھ سے
معافی مانگے جو اس نے پچھلے کئی سالوں مجھے دیں اور اب بھی مجھے جن ناخوشگوار
تجربات سے گذاررہی ہے۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ مجھے اُسے معاف کردینا چاہئیے، لیکن
جب میں نے نارانون کا پیغام سُنا تو مجھے احساس ہوا کہ اُس نے میرے ساتھ کچھ غلط نہیں
کیا، بلکہ یہ سب اُس نے اپنے ساتھ کیا ہے۔ میرے ساتھ یہ ہوا ہے کہ میں نے خود کو نشئی
کے اعمال سے متاثرہونے کی اجازت دی تھی۔
چوتھے قدم کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے معلوم ہوا
کہ میں مظلوم نہیں تھا۔ بلکہ اس کے برعکس بہت سی ایسی وجوہات تھیں جس کی وجہ سے
مجھے اپنی بیٹی سے معافی مانگنی چاہیئے تھی۔ نارانون پروگرام میں آنے سے پہلے میں
غصے سے بھرا ہوا تھا۔ اس غصے کی وجہ سے میں اس کا تمسخر آڑاتا، اس سے حقارت آمیز
سلوک کرتا، اسے شرمندہ کرتا، اور عمومی طور پر نشئی کو ایک بیکار انسان کے طور پر
محسوس کرانے کی کوشش کرتا۔
میں نہیں جانتا تھا کہ نشہ ایک بیماری ہے اور
میں سوچتا کہ میری بیٹی کا رویہ مجھ پر حملہ کرنے کیلئے اور مجھے تکلیف پہنچانے کیلئے
تھا۔ میں اب پوری طرح جان چکا ہوں کہ سوچنے کا یہ انداز غلط اور بیکار ہے اور میرا
ابتدائی ردعمل نشئی کی مدد کرنے کی بجائے اسے دور کرنے والا تھا۔ میرے شدید ردعمل
نے میری بیٹی کو اور مجھے نقصان پہنچایا۔ میرے غصے نے میری تکلیف کو کم کرنے میں
کوئی کرادار ادا نہیں کیا۔ اس سے چیزیں صرف مزید خراب ہوئیں۔
آج کی سوچ:
میں پہلے نارانون پروگرام آیا کیونکہ مجھے تکلیف
پہنچی تھی، لیکن نارانون کا پیغام سمجھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں درد سے
چھٹکارہ پانے کے لیے مجھے پہلے خود کو ٹھیک کرنا ہے پھر جب بھی ممکن ہو اپنی نشئی
بیٹی سمیت جن دوسرے لوگوں نقصان پہنچایا ہے ان سے تلافی کرنی ہے۔ معافی آزادی کی
طرف ایک قدم ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں