اپنے چھوٹے سے قصبے میں نوعمری کے زمانے میں
مجھے لگتا تھا کہ یہ جگہ میرے لیے موزوں نہیں۔ موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں
کے دوران میں بہتر محسوس کرتی تھی۔ اس تجربے کا میری اپنی ذات کے بارے میں سوچ میں
بہت بڑا حصہ ہے کہ میں کون ہوں۔
جب تک مجھے نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام کا
علم ہوا میں خود کو کھو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون تھی اور میرے لئے
کیا اہم چیز ہے۔ حتیٰ کہ مجھ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ میں کونسی فلم
دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی توانائیوں کو اپنے عزیز کے لیے وقف کر دیا تھا۔ میں
وہی چاہتی تھی جو وہ چاہتا تھا، وہی کرتی تھی جو وہ کرتا، میں اپنی تمام تر
توانائیاں اس کے مسائل حل کرنے، اس کے مزاج کو سنبھالنے اور اُسے خوش رکھنے کی
کوشش میں لگا دیتی۔
نارانون کی ہفتہ وار میٹنگ نے مجھے اپنی ذات پر
توجہ دینے میں مدد دی۔ ایک عرصہ تک میٹنگز میں شامل ہونے کے بعد ایک علاقائی
ورکشاپ میں شرکت کیلئے میں نے اپنی مصروفیات میں سے پورے ایک دن کا وقت اپنی ذات
کیلئے نکالا۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہی ہوں۔ میرا شوہر سمجھا کہ مجھے
کوئی کام ہے اور میں نے اسے ایسا سمجھنے دیا، کیونکہ ابھی بھی میں اپنے حق کیلئے
کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ اُس دن میں نے بہت زیادہ اُمید اور طاقت پائی اور اسکے بعد
میں نے مقامی اور علاقائی خدمت، مثلاً نشی لوگوں کو جیل میں ملنا یا میٹنگز کے
انعقاد میں مدد کا کام شروع کر دیا۔
جب مجھے اپنی ہفتہ وار میٹنگز میں زیادہ طاقت
اور زیادہ اطمینان ملا تو مجھے یہ اور زیادہ پانے کی خواہش ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ
بچپن میں کیسے موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں نے میری مدد کی تھی۔ میں نے اسے
دوبارہ آزمایا۔ میں نے خواتین کے ’بارہ اقدام‘ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جو ہر
تین ماہ بعد کہیں دور اکٹھے وقت گزارتی تھیں۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام پر کام
کرنے میں مدد کی اور ہفتے کے آخر میں کچھ وقت گھر سے دور گزارنے سے مجھے نیا نقطہ
نظر ملا۔ میں نے خود سے سوچنا سیکھا۔
اپنے نوجوان بیٹے کے نشے کے استعمال کے برسوں کے
دوران میں بہت خوفزدہ تھی کہ وہ مر جائے گا یا کئی سال جیل میں گزارے گا۔ اُسے
جانے دینا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دینا بہت مشکل تھا۔ جب میں اس کی مدد
نہیں کر سکتی تھی تو میں بطور گروپ سپانسردوسرے نوعمر افراد کی مدد کرتی۔ میں نشے
سے بحالی کے ایک مرکز میں خدمت کا کام دیتی اور وہیں میری ملاقات ایک ایسی سپانسر
سے ہوئی جس کے بچے نشے کی وجہ سے جیل میں تھے۔
آج کی سوچ:
خدمت کا کام میری بحالی میں صراحت، مضبوطی، اور
گہرائی لاتا ہے۔ خدمت کے دوران میں نے اپنی بحالی اور اپنے لئے وقت نکالنے کی
اہمیت کے بارے میں سیکھا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں