ایک
دن تباہ کن آگاہی نے میری زندگی بدل دی۔ میں کام کررہی تھی اور میرے بچے سکول میں
تھے جب مجھے اپنے گھر میں منیشات کے استعمال کے بارے میں معلوم ہوا۔ نشہ میری
زندگی میں بھی آہستہ سے شامل ہو گیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔
چرس
کا بے جا استعمال میرے عزیز کو زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا فریب بھرا راستہ فراہم
کرتا۔ ہیروئین کے غلط استعمال سے وہ بے حس و حرکت کئی گھنٹوں تک سویا پڑا رہتا۔ چرس
کے عادی شخص کا رویہ بھی پُرتشدد ہو جاتا۔ میرے اہلِخانہ میں منشیات کا استعمال
میرے لئے ایک نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک حققیت ہے۔
نارانون
تک پہنچنے سے پہلے میں اپنے ماضی اور اپنے عزیزوں کی نشے کی عادت پر توجہ دینے میں
پھنسی ہوئی تھی۔ میری خواہش تھی کہ میرے گھر کے افراد پہلے جیسے پیار کرنیوالے اور
مہربان ہو جائیں۔ میں اس اعتماد، ہنسی اور تفریح کو بھی یاد کرتی جس سے کبھی ہم لُطف
اندوز ہوا کرتے تھے۔
جب
میں نے دوسروں کو نارانون میٹنگ میں اپنی کہانی بیان کرتے سُنا تو مجھے احساس ہوا
کہ میں اس افسردہ اور پریشان کرنے والی حقیقت میں اکیلی نہیں ہوں۔ میں نے نارانون
میں سیکھا کہ میں اپنا ماضی، دوسرے لوگوں یا چیزوں کو نہیں بدل سکتی لیکن میں خود
کو بدل سکتی ہوں۔ مجھے ایک خوشگوار آگاہی اور نئی اُمید کا احساس ہوا۔
اپنے
پروگرام پر کام جاری رکھتے ہوئے میں نے اپنے دکھ اور خوشیاں دوسروں سے بانٹنا
سیکھا۔ اب میں روزانہ اپنی پرانی ناراضگیوں کو جانے دینے کی مشق کرتی ہوں۔ ہر روز
میں اپنی توجہ خود پر اور اپنی زندگی میں مثبت چیزوں پر مرکوز کرتی ہوں۔
میرے
لئے سب سے فائد مند علاج نارانون پروگرام ہے۔ اب میں کسی پریشانی اور پچھتاوے کے
مزید مستقل اضطراب میں نہیں ہوں۔ بارہ اقدام پر کام کرکے اور میٹنگز میں باقاعدگی
سے جا کر میں نے ہر نئے دن کو اپنے دل میں اطمینان اور سکون کے ساتھ قبول کرنا
سیکھا۔
آج
کی سوچ:
آگاہی
کسی بھی مسئلے کو پہچاننے میں پہلا قدم ہے اور پس یہی مثبت تبدیلی کی طرف پہلا قدم
ہے۔ جب تک میں کسی مسئلے کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گی میں اُسے حل کرنے کے لئے مناسب
کارروائی نہیں کر سکتی۔ مجھے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں صرف وہ کر سکتی ہوں جو
میرے لئے ٹھیک ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں