میں نارانون کی ایک شکرگزار رکن ہوں اور
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی عزت نفس کی پرواہ نہ کرنے کی عادت سے بحال ہو رہی
ہوں۔ میں ایک نشئی کے ساتھ کئی سال شادی کے بندھن میں رہی تھی اور میں ضرورت سے
زیادہ مسائل کا شکار رہی کیونکہ میں نے یہ مسائل خود اپنے اوپر مسلط کیے تھے۔
میں اپنے سارے مسائل کے لئے نشئی کو
الزام دیتی اور اپنی خود کی ذمہ داریاں اٹھانے سے اُسی طرح انکاری تھی جیسے نشئی اپنی ذمہ
داریوں کو اٹھانے سے انکاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں۔
پہلے میں نارانون میں آنے کے لئے راضی
نہیں تھی۔ جب میں نے نارانون میٹنگز میں آنا شروع کیا تو میں سُنتی بھی نہیں تھی۔
میں وہاں سُن بیٹھی رہتی لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے بہتر محسوس کرنا شروع کردیا
اور یہاں آنا جاری رکھا۔
میں نے نارانون کا لٹریچر پڑھنا شروع
کردیا۔ آخرکار میں نے بھی شئیر کرنا شروع کیا اور یہی وقت تھا جب میں نے بہتر ہونا
شروع کردیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں وہیں ہوں جہاں مجھے ہونے کی ضرورت تھی
اور یہ کہ جو میں محسوس کرتی تھی دوسرے اسے سمجھتے تھے۔ بالآخر میں دوسرے لوگوں کی
کہانیاں سُننے کے بھی قابل ہو گئی اور میں نے ان کی پرواہ کرنا شروع کردیا۔
میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں صرف ایک
انسان ہوں۔ اس بات کے احساس سے مجھے بہت سکون ملا کہ میری زندگی کی بہت ساری
ناکامیوں کے پیچھے میری نالائقی نہیں تھی بلکہ جو کچھ بھی میں کرنے کی کوشش کر رہی
تھی وہ فانی انسانوں کے لئے جسمانی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے کرنا ناممکن ہے۔
جب میں اپنے آپ کو ایسی چیزوں تک محدود رکھتی
ہوں جو میں کر سکتی ہوں اور مجھے کرنے کا حق رکھتی ہوں تو میں انہیں عمدہ طریقے سے
کرتی ہوں۔ حتیٰ کہ اگر میں اچھے طریقے سے نہ بھی کر سکوں تو میں جانتی ہوں کہ ایسا
اس لئے ہے کہ میں محض ایک انسان ہوں اور اسی لئے میں کامل یا بے عیب نہیں ہوں ۔۔۔ بالکل دوسروں
کی طرح۔
آج کی سوچ:
میں نے سب سے بڑا تحفہ جو نارانون سے
حاصل کیا وہ ہے عزتِ نفس۔ اب میں جانتی ہوں کہ میں محبت، پُرسکون ماحول اوراپنے
لیے عزت کی حقدار ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں