فیصلہ سازی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فیصلہ سازی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 23 ستمبر، 2015

ضروریات

میں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ اچھا ہو اور میں نے اس کے لیے دعا کی اور نارانون وہ جگہ تھی جہاں مجھے یہ اچھائی ملی۔ ایک پرانی کہاوت کہ ’’نشئی کو اپنی پستی میں گرنے دو‘‘ کو آزمانا میرے لئے مشکل ہے۔ نشئی کو مدد کی ضرورت کا احساس ہونے تک حالات خراب ہو سکتے ہیں، اگر کھبی اسے یہ احساس ہو جائے۔

میں نے دیکھا کہ کسی چیز کے برا ہونے کے بارے میں میرا خیال نشئی کے خیال سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نشئی کے لیے میری خواہشیں، چاہتیں، ضرورتیں اور مستقبل کی اُمید اس کے اپنے خیالات سے مماثلت نہ رکھتی ہوں۔

جب میں نشئی کی خواہشات اور ضرورتوں کا اندازہ لگانا شروع کرتا ہوں تو میں ایک بار پھر اسکی زندگی کو کنٹرول کرنے اور اس کی بالاترطاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ میں پھر سے پرانے جال میں پھنس گیا ہوں اور نشئی کے لئے وہ سب کررہا ہوں جو اُسے خود اپنے لئے کرنا چاہئیے۔

جب میری توجہ نشئی پر اور اسکی ضرورتوں اور خواہشوں پر ہوتی ہے تو میں اسے اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا ذمہ دار بھی بنا رہا ہوتا ہوں۔ آج جب میں نشئی کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے فیصلہ کرتا ہوں تو میں اپنے لیے فیصلہ کرتا ہوں۔

مجھے یہ یقین آگیا ہے کہ مجھ سے زیادہ بڑی طاقت میری خواہشات، ضروریات اور چاہتوں کو پورا کرسکتی ہے۔ جس طرح میری بالاتر طاقت نے مجھے نارانون تک پہنچنے میں رہنمائی کی یہی بالاتر طاقت نشئی کو بھی مدد تک پہنچائے گی جب نشئی بحال ہونا چاہے گا۔

میں اپنی ذات اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لے سکتا ہوں، دوسروں کی زندگیوں کی نہیں۔ میں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ تلافی کر کے اپنے ماضی کے فیصلوں کو قبول کرتا ہوں۔ یہ عمل میرے لئے زندگی گزارنے کے ایک نئے اور مختلف راستے کے دروازے کھولتا ہے۔ میں اپنے ماضی کو دہراتے رہنے کی بجائے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

آج میں اپنی بالاتر طاقت سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے یاد دلائے کہ میں جو کچھ بھی اپنے لئے چاہتا اور خواہش رکھتا ہوں وہ میرے اندر موجود ہے۔


’’جرأت رونے سے نہیں ڈرتی اور وہ دعا کرنے سے نہیں ڈرتی حتی کہ اس وقت بھی جب اُسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کس سے دُعا کر رہی ہے۔‘‘ ~ جے روتھ جینڈلر

منگل، 22 ستمبر، 2015

فیصلہ سازی

جب میں نشے کی بیماری سے پیدا ہونے والی بدنظمی میں زندگی گزار رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ مجھے اپنی زندگی کے سادہ سے لے کر مشکل ترین مسائل کے بارے میں فیصلے کرنے میں مشکل پیش آتی تھی، ایسے مسائل جو میری اور میرے اہلِ خانہ کی بھلائی پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔

حال ہی میں میری آٹھارہ سالہ بیٹی نے، جو نشے کی عادی ہے، خود کو بحران کی صورتحال میں پایا۔ اس کی وجہ سے اُس نے منشیات کا استعمال بڑھا دیا اور اس کا رویہ اور عمل ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ نارانوں آنے سے پہلے میں نے اسے ناقابلِ قبول رویے کو جاری رکھنے کی اجازت دے کر خود کو اس افراتفری میں جھونک دینا تھا۔ میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی تھی، اسے چلے جانے کا کہنے سے ڈرتی تھی، اور نتائج سے خوفزدہ تھی کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے گی۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت چیزوں کا خیال رکھے گی۔ میں اس کی رہنمائی کا انتطار کروں گی۔ مجھے یقین ہے کہ میری بالاتر طاقت مجھے وہیں لے جائے گی جہاں مجھے ہونا چاہئیے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ میری رہنمائی کرے اور مجھے یقین ہے اگر میں غلط راستے پر جارہی ہوں گی تو وہ مجھے صحیح راستہ دکھائے گی۔ میں واضح جواب کا انتظار کرتی ہوں کیونکہ بعض اوقات فیصلہ نہ کرنا غلط فیصلہ کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔

آج کی سوچ:

نشے کی عادت پورے خاندان کو متاثر کرنے والی ہے۔ اس کی کئی شکلیں ہیں اور یہ صرف نشے کے عادی فرد کو متاثر نہیں کرتی۔ میں اپنی بالاتر طاقت اور نارانون پروگرام کی مدد سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کر سکتی ہوں۔


’’میں ہر دن کے آغاز میں اپنے ارادے اور اپنی زندگی کو خدا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں ‘‘ ~ بدلنے کی جرأت