میں نے اعتراف کیا کہ میں حالات سے تنگ رہنے سے
تنگ آ چکا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ نشے کی مریضہ اور میں خود کو مار رہے تھے ۔۔۔ وہ
منشیات کے استعمال سے اور میں اپنی پریشانی، غصے اور خوف سے۔
مجھے احساس ہوا کہ نارانون کے پہلے قدم کا پیغام
واقعی سچ تھا۔ میرا اپنی نشے کی مریضہ کے اوپر کوئی اختیار نہیں تھا، اور
میری اپنی زندگی بھی میرے اختیار سے باہر تھی۔ قبولیت کے اس سادہ تصور نے میری زندگی بدل دی۔ اب مجھے تباہی کے اس سفر کو جاری رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ نشے کی بیماری سے نمٹتے ہوئے آنے
والی سوچوں، احساسات، خواہشات، اداسی، اور اس بیماری پر اپنی فتوحات کے بارے میں
لکھنا مفید ہے۔
میں سیکھ رہا ہوں کہ کسی سے توقعات نہیں رکھنی چاہیئں، کیونکہ توقعات ہی مایوسیوں کو جنم دیتی ہیں۔ میں خود میں
اور باقاعدگی سے میٹنگز میں آنے والوں میں بہت نمایاں تبدیلیاں دیکھ رہا ہوں۔
میں اپنی کایا پلٹنے پرحیران ہوں جس نے میرا زندگی کو
دیکھنے کا نظریہ ہی بدل دیا۔
آج کی سوچ:
ثابت قدم
رہتے ہوئے میں سُنتا ہوں، اپنی حالت کا جائزہ لیتا ہوں، اور ہر قدم کے مطلب
کو سمجھتا ہوں، اس کو استعمال کرتا ہوں، اور پھر اگلے قدم کی جانب بڑھ جاتا ہوں۔ اگر
میں پھسل جاؤں تو میں واپس جاتا ہوں اور نئے سرے سے ان اقدام پر عمل شروع کرتا
ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ واپس مُڑنا اور پھر دوبارہ سے شروع کرنا ہر بار پہلے سے زیادہ
آسان ہوتا ہے۔
’’12 اقدام پر عمل سے، روایات کی پیروی کرکے اور پروگرام کے طریقوں
کو اپنا کر ہم محبت اور بالاتر طاقت کی مدد سے خود کو بدلنا شروع کر دیتے ہیں‘‘ ~ نارانون نیلا
کتابچہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں