میں دوطرح سے فاتح ہوں، ایک نشئ کے طور پر اور دوسرا نارانون
کے ایک شکر گزار رکن کی حثیت سے۔ آج مجھے اعتماد ہے کہ میں جب بھی حادثاتی طور پر کسی
جگہ جا پہنچوں گا، تو میں وہیں ہوں گا جہاں مجھے ہونا چاہیئے۔ ابھی بھی میں حالات
اور لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی شدید خواہش سے نمٹ رہا ہوں۔ جویہ ثابت کرتا ہے
کہ میں ابھی بھی بیماری کی حالت میں ہو حالانکہ میں اب نشہ نہیں کرتا۔
میں نارکوٹکس انونیمس (این اے) اور نارانون کنوینشن (میٹنگ) میں اپنی بہن کے ساتھ شریک تھا، جو عدالت کے حکم پراپنے نشے کی عادت کو ختم کرنے کی کوشش کررہی تھی اور بہت مشکل میں تھی۔
پہلی رات ہم ایک میٹنگ
میں گئے جہاں نشے کے تین سو مریض موجود تھے جو صحتیابی کے عمل سے گزر رہے تھے۔ کچھ دیر
رُکنے کے بعد میری بہن نے فیصلہ کیا کہ یہ اس کے لئے بہت مشکل ہے اور وہ وہاں سے شراب
خانے چلی گئی اور نشے سے ڈھیر ہوگئی۔
میری بہن نے کنوینشن کا پہلا دن نشے کی خماری میں ہوٹل کے
کمرے میں پردوں کو بند کر کے گزارا۔ میں نے اپنے سپانسر اور ساتھیوں کو صورتحال سے
آگاہ کیا۔ وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ مجھے بھی اپنی بہن کی درخواست پر اُس کے
لئے انڈے اور گوشت لے کر جانے کی ضرورت نہیں اور مجھے اپنے دن کو اپنے پروگرام کے
مطابق گزارنا چاہئیے۔
اگلے دن میں نے اپنی بہن کو اس دن کے پروگرام کے بارے بتایا
اور اسے افتتاحی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی۔ میں حیران ہو گیا کہ میری بہن میٹنگ
میں جانا چاہتی تھی۔ میٹنگ میں تقریر کرنے والا بہت مزاحیہ تھا اور مجھے نظر آ رہا
تھا کہ میری بہن اس کی باتوں کو سمجھ رہی ہے اور ہنس رہی ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ
مجھے اسے اس کی مرضی پر چھوڑتے رہنا چاہئیے تاکہ وہ اپنی بالاتر طاقت کو خود پہچان
لے۔ مجھے معلوم ہے کہ میری جانب سے کسی بھی قسم کا کنٹرول مثبت یا منفی، اس کے
راستے میں رکاوٹ بنے گا۔ مجھے یقین رکھنا ہوگا کہ اس کی بالاتر طاقت اس کی نگرانی
کر رہی ہے اور
اسے پستی کی تہہ میں گرنا ہوگا۔ یہ سب سیکھنے کا عمل ہے۔
آج کی سوچ:
صحتیابی ایک سفر ہے جس پر ہم ساتھ چل سکتے ہیں لیکن ہر شخص کو خود فیصلہ کرنا چاہیئے کہ اس نے یہ سفر اختیار کرنا ہے یا نہیں۔
’’ہم سب کے لئے رہنمائی
موجود ہے اور عاجزی سے تفکر کرنے سے ہمیں صحیح الفاط سنائی دینے لگیں گے۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں