جب میں پہلی مرتبہ نارانون میٹنگ میں گیا تو میں
اُلجھن کا شکار تھا اور جوابات تلاش کر رہا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ مجھے نشے کے
مریض کے لئے کتنا کچھ کرنا چاہیئے۔ میں مریض کا خیال رکھنے اور مکمل ذمہ داری
اٹھانے کے درمیان فرق سمجھنا چاہتا تھا۔
میں نے
میٹنگز میں جانا جاری رکھا اور اپنے نارانون ساتھیوں کے تجربات سے سیکھا۔ میں سیکھ
رہا ہوں کہ مریض کی نشے میں معاونت کا ایک طریقہ اس کے وہ
کام کرنا ہے جو وہ خود کر سکتا ہے۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مریضہ کی نشے میں
معاونت کرنا چھوڑ دوں گا۔ میں ہر دفعہ اس کی معاونت کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال
پوچھوں گا کہ کیا وہ یہ کام خود کر سکتی ہے؟ کیا میں اس کے لئے کچھ ایسا کرنے جا رہا ہو، جو اس کی روحانی ترقی میں
مددگار نہیں ہو گا؟
نشئی کے اعمال کے قدرتی نتائج سے بچنے میں اس کی
مدد کرنا نشے میں معاونت کا ایک اور طریقہ تھا۔ لہٰذا میں نے مزید ایک تبدیلی کی۔ جب میں نے یہ اہم تبدیلیاں کیں تو
میں نے مریضہ کے نشہ کرنے کے باعث مصیبت میں پڑنے کے بعد اس کی مدد کرنا چھوڑ دیا۔
جب میں نے میٹنگز میں جانا جاری رکھا تو میں نے
سیکھا کہ میں اپنا عزت و وقار کم کیے بغیر میں اپنے رویے میں لچک لا سکتا ہوں۔ میرے لئے اسکا
مطلب تھا کہ میرے پاس اپنی مرضی کا اختیار ہے اور جب مجھے صحیح لگے تو میں اپنا ارادہ
بدل سکتا ہوں۔
اس سوچ اور
روحانی ترقی نے مجھے آرام اور سکون دیا ہے کیونکہ اس نے مجھے دکھایا کہ میں اپنی
زندگی کنٹرول کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے اچھی تبدیلیاں لا رہا ہوں۔
میں نشے کے مریض کی مدد کر سکتا ہوں، جب مجھے لگے کہ ایسا کرنا درست ہوگا، اورمجھے محسوس ہو کہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سیکھا کہ میں مریض کو گھٹن زدہ کیے بغیر اسکے کیساتھ محبت کر سکتا ہوں۔
مگر یہ سیکھنا سب
سے اچھا لگا کہ مجھے ہر اس شخص جس سے میں محبت کرتا ہوں کے ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں،
نہ ہی اس وقت اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے کی ضرورت ہے جب میں ان کے لئے وہ کچھ نہ
کرو جو وہ خود اپنے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔
آج کی سوچ:
میں جاننا چاہتا تھا
کہ مجھے مریض کو اس کی بالاتر طاقت کے حوالے کرنے سے پہلے خود کتنا کام کرنا ہو گا۔
بلآخر جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ میں جانے دے سکتا ہوں اور جن سوالات کے جواب
میں تلاش کر رہا ہو وہ اس وقت مجھے مل جائیں گے جب میں انہیں قبول کرنے کے لیے
تیار ہوں گا۔
’’بعض اوقات رستہ
صاف دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت ہمیں رُک جانا چاہئیے، رہنمائی مانگنی چاہیئے اور آرام
کرنا چاہئیے۔ یہی وقت ہوتا ہے جب خوف کو جانے دینا چاہیئے۔ انتظار کرو۔ اُلجھن اور
بُرے حالات کو محسوس کرو اور پھر جانے دینا دو۔ رستہ خود بخود دکھائی دے گا۔ اگلا
قدم ظاہر ہو جائے گا۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں