پیر، 24 اگست، 2015

بد سلوکی:میرے ماضی کا بھوت

ایک شام میں میٹنگ میں بیٹھا تھا اور ’بچوں سے زیادتی‘ کا موضوع سامنے آیا۔ دوسروں کے واقعات سنتے ہوئے مجھے بھی اپنے بچپن کی بدسلوکی یاد آئی تھی، جو سکول کے زمانے سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ بچپن میں میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اثر میرے بالغ ہونے کے بعد تعلقات پر بھی ہوا۔ اس بدسلوکی کا اثر اس بات پر بھی ہوا کہ میں اپنے زندگی میں موجود نشے کے مریضوں سے کیسے نمٹتا ہوں۔ میں نے مظلوم بننا سیکھ لیا تھا۔

پانچ برس کی عمر سے مجھے جسمانی، جذباتی اور ذہنی زیادتی کا سامنا رہا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی کہ کبھی کبھی اب بھی جب کوئی مجھ سے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتا ہے تو میں ڈر جاتا ہوں۔ میں اس بات پر نہیں سوچتا کہ اپنی دلیل پر قائم رہنا میرے مفاد میں ہے یا نہیں۔ میں بغیر سوچے سمجھے ردعمل کا اظہار کرتا ہوں، خوف میں بھاگ جاتا ہوں اورپھر درد اور مایوسی میں ڈوبے کئی دن گزار دیتا ہوں۔

نارانون میرے زخموں کو مندمل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ان اوقات میں میں پروگرام کے طریقوں کو استعمال کر سکتا ہوں جب خوف سے نمٹنا مشکل ہو۔ میں جتنا زیادہ اپنے پروگرام پر عمل کرتا ہوں، میٹنگز میں باقاعدگی سے جاتا ہوں، اقدام کو اپنی مشکلات میں استعمال کرتا ہوں، شیئر کرتا اور بغور سُنتا ہوں، اتنی ہی آسانی سے میرا خوف یقین میں بدل جاتا ہے۔ میں زیادہ مضبوط اور صحتمند انسان بن رہا ہوں اور اب یہ پیغام دوسروں تک پہنچا سکتا ہوں۔

میں جتنا زیادہ دعا کرتا ہوں، غورو فکر کرتا ہوں اور اپنے لئے رہنمائی مانگتا ہوں، اُتنی ہی زیادہ مجھے مدد ملتی ہے جس کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔ اب مایوسی اور درد میں سکون حاصل کرنا میرے لئے زیادہ آسان ہے، نارانون کے بارہ اقدام کی بدولت اور میرے نارانون خاندان کے ساتھیوں کی بدولت، جو اپنی غیرمشروط محبت سے مجھے بحالی اور صحتمند ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

آج کی سوچ:

میں اپنی ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کے بھوت کو اپنی زندگی پر حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اور نارانون پروگرام کے سہارے، میں خوف کی بجائے اطمینان اور سکون کا انتخاب کروں گا۔


’’یہ ہوسکتا ہے کہ نیا آنے والا شخص اپنے آپ کو ان لوگوں اور حالات کی بدولت مظلوم سمجھتا ہو جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں لیکن جتنی بھی زیادہ وہ کوشش کر لے وہ ان پر قابو نہیں حاصل کر سکتا۔ ان اقدام نے بہت سے ایسے لوگوں کو، جن کے حالات ملتے جُلتے ہیں، یہ  سکھانے میں مدد کی ہے کہ کس طرح مظلوم بننا بند کریں اور اپنی زندگیوں کے اس حصے کی ذمہ داری لیں جسے منظم وہ کر سکتے ہیں اور منظم کرنا چاہئیے جبکہ زندگی کے ان حصوں کی تکلیف سے بچنے کے راستے تلاش کریں جن پر وہ قابو نہیں پا سکتے یا نہیں پانا چاہئیے۔‘‘ ~ نارانون بارہ اقدام کا پروگرام

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں