پیر، 17 اگست، 2015

سیکھنے کی کوئی عمر نہیں


 میں مُڑ کر اپنی زندگی پر نظر ڈالتی ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میری زندگی میں کبھی بھی ایسا وقت آیا کہ میں نے نشے کی بیماری کے بغیر زندگی گزاری ہو۔ میرے ابا بھی نشے کے مریض تھے جنہیں میری ماں نے اس وقت گھر سے باہرنکال دیا تھا جب میں صرف چار برس کی تھی۔ جب میں آٹھ سال کی ہوئی تو میری ماں نے نشے کے عادی ایک اور شخص سے شادی کر لی۔

مجھے صرف ایک چیز اچھی طرح یاد ہے اور وہ ہے نہ ختم ہونے والی لڑائیوں کا سلسلہ، الزامات، زبانی  گالم گلوچ اور نشہ ٹوٹنے کی ٹھنڈے واقعات۔ بد قسمتی سے میں نے اپنی ماں کی غلطیوں سے نہیں سیکھا اور میں نے بھی ایک نشے کے عادی شخص سے شادی کر لی۔ کسی وجہ سے میری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا اور میں نے اس کے نشہ آور چیزوں کے استعمال کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

حالات اس وقت بہت خراب ہو گئے جب میں نے اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے صرف پندرہ ماہ بعد ہی تیسرے بچے کو جنم دیا۔ دو بچوں کی بیک وقت نگہداشت (دونوں ہی وقت سے پہلے پیدا ہونے کی وجہ سے بہت بیمارتھے) کی پریشانی کے نتیجے میں میرے شوہر نے اتنا زیادہ نشہ کرنا شروع کردیا کہ وہ اپنی ملازمت کو بھی نہ سنبھال سکا۔ اسے یکے بعد دیگرے دو ملازمتوں سے نکال دیا گیا۔ آخرکار ایک دن دھواں دار لڑائی میں حد ہو گئی۔ وہ جسمانی تشدد پر اُتر آیا اور مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہوگئی۔

جب میں سر پر شدید چوٹ کے ساتھ ہسپتال میں داخل تھی تو میری ڈاکٹر نے میرے سامنے بیٹھ کر مجھ سے تفصیلی گفتگو کی۔ میں نے اپنے شوہر کو طلاق دے دی مگر پھر بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے مدد حاصل کی۔

میں نے نارانون میٹنگز میں جانا شروع کیا۔ وہاں مجھے پیار، مدد، آرام اورسمجھ بوجھ ملی۔ مجھے ایک ایسا پروگرام ملا جہاں میں نے وہ ہنر سیکھے جس کی میری ساری زندگی میں کمی رہی۔

آہستہ آہستہ میں نے اپنی زندگی کو ایک ایک دن کر کے گزارنا، جانے دینا، اور یہ احساس کرنا سیکھا کہ میں اپنے پیاروں کے اعمال کی ذمہ دار نہیں ہوں۔ میں نے اپنے آپ کا ایماندری سے سامنا کرنا، اپنی دیکھ بھال کرنا اور خود سے محبت کرنا سیکھا۔

اپنی ذات کی تلاش نے میری خود اعتمادی کو بحال کیا۔ میں نے پروگرام کے بارہ قدموں کو اپنایا اور اپنی زندگی کو دوبارہ تعمیر کیا۔

آج کی سوچ:

میں آج محبت کرنے اور مدد دینے کی بہتر حالت میں ہوں کیونکہ میں نے نشے کے عادی مریض کو ان چیزوں سے الگ کرنا سیکھ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ میں مریض کے کاموں کو اگر پسند نہ بھی کروں تو میں پھر بھی اُن سے محبت کر سکتی ہوں۔ 

’’ہم پیار کرنا صرف پیار کر کے ہی سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ ~ آئرس مرڈوک


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں