جمعرات، 20 اگست، 2015

لاتعلقی اختیار کرنا، پیار سے

میرا خیال ہے کہ میں نے آخرکار نارانون کے ایک اہم مقصد کو سمجھنا شروع کردیا ہے کہ میں قبول کروں کہ میرا منشیات یا نشے کے مریض پر کوئی اختیار نہیں ہے، اور اس حقتقت کا اعتراف  کہ میری زندگی میرے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔ میرا سوال ہے: ’’مجھے آگے کیا کرنا ہے؟‘‘

پروگرام کے طریقوں پرعمل کرتے ہوئے میں نے ان مسائل کا سامنا کرنے کے نئے انداز سیکھے۔ ان میں سے ایک ’لاتعلقی‘ ہے۔ بس جانے دو! یہ سننے میں بہت آسان اور سادہ لگتا ہے۔

مجھے احساس ہوا ہے کہ نشے کی عادت مریض کو ایک چالاک انسان بنا دیتی ہے، جو کھوکھلے وعدوں سے بھرا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یہ سوچ میرے اندر خوف کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ آج میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ بھی کر لوں مگر اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس ایک احساس سے مجھے لگا کہ مجھ پر سے ذمہ داری کا بوجھ ہٹ گیا ہو۔

پروگرام کے پیغام سے، اپنے گروپ اور نارانون کے اقدام سے میں نے سیکھا کہ نشئی کو اس کی زندگی کا اختیار دیتے ہوئے محبت سے علیحدہ ہو جاؤ۔ اُسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے اور اپنے فیصلوں کے نتائج بھگتنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی ضرورت کے تحت حدود مقرر کرکے نشے کے مریض سے پیار سے لاتعلقی اختیار کر سکتا ہوں۔ میں نشئی سے محبت کر سکتا ہوں لیکن اس کے نشے کی عادت سے لاتعلقی اخیتار کرسکتا ہوں۔

میں میٹنگز میں واپس آنا اور اقدام پر عمل کرنا جاری رکھ سکتا ہوں جب تک وہ مجھے فائدہ دینا نہ شروع کر دیں۔

آج کی سوچ:

اب میں دوسرے لوگوں کو اُن کی ذمہ داریاں قبول کرنے کی اجازت دیتا ہوں، اور محبت کے ساتھ علیحدہ ہونے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔

’’تمہاری کامیابی اور خوشی تمہارے اندر موجود ہے۔ خوش رہنے کا عہد کرو۔ تمہاری مسرت اور تم مل کر مشکلات کے خلاف ایک  نا قابلِ تسخیر قوت بن سکتے ہو۔‘‘ ~ ہیلن کیلر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں