مجھے یہ بات بڑی
حیران کن لگتی ہے کہ چوتھے قدم پر کام اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ ہم زندگی کے
مسائل کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔ اس قدم نے مجھے احساس دلایا کہ کسی بھی صورتحال
میں میرے ردِ عمل کا اختیار صرف میرے پاس ہے،اپنی بالا تر طاقت کی مدد سے۔
مجھے
احساس ہوا ہے کہ اس سے پہلے میں نے غصے اور بے صبری کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ
میں کسی صورتحال میں کیسے ردِ عمل کا اظہار کرتی ہوں اور یہ کہ مجھے کردار کے ان
نقائص پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو تبدیلی مجھ میں آئی وہ گہری تھی۔
چوتھے قدم کی
وجہ سے میرے اپنے نشئی کے بارے میں احساسات تبدیل ہو گئے۔ ایک وقت ایسا تھا جب میں
اسے دیکھ کر بہت غصے میں آ جاتی۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ بحالی کے سفر میں غصے سے
کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں جب سے غصہ کرنا چھوڑا ہے مجھے اپنے اندر اور اپنے نشئی کے
اندر تبدیلی محسوس ہوئی ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ میں اپنے غصے کی وجہ سے
ہر وقت برے موڈ میں نہیں رہتی۔ اب میں اس چیز تک پہنچ پاتی ہوں جس کی مجھے ہمیشہ سے تلاش تھی۔۔۔ سکون۔ میں جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر اچھا محسوس کرتی ہوں۔ مجھے اب پیٹ میں درد نہیں ہوتا، میرا بلڈ پریشر اوپر
نہیں جاتا اور میں اب اپنی زندگی میں اچھی چیزوں کی قدر کر سکتی ہوں۔ ابھی اگلے ہی دن
میں نے ایک پرندے کے گانے کے جادو اور خوبصورتی کو سنا۔
چوتھے قدم پر کام کر کے
میں نے بہت سی چیزیں حاصل کی ہیں۔ میں اپنی بالا تر طاقت کی رہنمائی اوردلجوئی کی
تلاش میں ہوں۔ مجھے یہ بھی احساس ہو رہا
ہے کہ نشئی ایک ایسا انسان ہے جو اذیت جھیل رہا ہے اور ہماری دردمندی کا حقدار ہے۔
آج کی سوچ
میں اپنی بالا تر
طاقت کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے نار انون پروگرام کو قبول کرنے اور چوتھا قدم
اٹھانے کی ہمت اور طاقت دی۔ میں اب دباؤ کا شکار، جنونی، غصے والی اور بے صبر انسان نہیں ہوں جیسا کہ میں کبھی ہوا کرتی تھی۔
’’آج میں اپنی فہرست
کو زندگی گزارنے کا ایک بہتر طریقے کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کروں گی۔‘‘
ٹوڈے اے بیٹر وے ۔۔۔ فیمیلیز انونیمس
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں