ہفتہ، 11 اپریل، 2015

کردار کے نقائص

میرا خیال ہے کہ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اس بات کا تقاضا کروں کہ مجھے پہچانا جائے اور سمجھا جائے۔ اس لیے میں ہمیشہ اپنی وجوہات، آرا، عذر اور ضروریات کو جتنا واضح طور پر بتا سکتا،  بتاتا تھا، کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی الفاظ استعمال کر جاتا مگر پھر بھی نتائج سے مطمئین نہ ہوتا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا کہ دوسرا انسان مجھے سمجھ نہیں پایا۔

 جب میں نے نار انون میٹنگز میں جانا شروع کیا، مجھے لگا کہ میری بات کو سمجھا گیا ہے۔ مگر مجھے پھر بھی لگتا تھا کہ میں سب سے مختلف ہوں اور میری صورت حال میں کوئی خاص بات ہے۔ مگر اب میں نے جانا  ہےکہ یہ  بھی میری کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی  ہے۔ میں لوگوں کے درمیان فرق کی طرف زیادہ توجہ دیتا، مگر یکسانیت کی طرف نہیں۔ میں منفرد بننا چاہتا تھا اگرچہ میں تنہا محسوس کرتا تھا۔

 مجھ میں ایک اور نقص یہ تھا کہ میں ہمیشہ اپنی توقعات اس بات پر لگاتا کہ مجھے سمجھا جائے گا۔ میں سمجھتا کہ اگر نشئی یہ سمجھ جائے کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں تو وہ مجھے تکلیف پہنچانا یا مایوس کرنا چھوڑ دے گا۔ میں اب سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنے آپ کو تنہا کیے بغیر اپنی انفرادیت قائم رکھ سکتا ہوں۔

میں اپنے تجربات نارانون کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شئیر کر سکتا ہوں اور بحالی کے سفر میں ان کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں۔ بات کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ مجھے اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، میں منطق اور لمبی تشریح سے دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔ میرے پاس یہ اختیار نہیں۔

 میں کیسا محسوس کر رہا ہوں اس کا اظہار کر سکتا ہوں، مگر جب میں ایک ہی بات بار بار کرنے لگتا ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی بجائے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہوں یا کسی طرح اپنی بات منوانے کے لیے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔

آج کی سوچ
 میں اپنے الفاظ کنڑول کرنے کے لیے نہیں، اپنے تجربات، اپنی خوبیاں اور بحالی میں آگے بڑھنے کی امید بیان کرنے کے لیے استعمال کروں گا۔

’’اچھی تقریر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے الفاظ اور لہجے کی طرف توجہ دیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارے الفاظ میں دوسروں کے لیے ہمدردی اور فکرمندی ہو اور انہیں زخم اور ٹوٹ پھوٹ  کی بجائے مدد اور شفا ملے۔‘‘

 بھانتے ہینیپولا گوناراتنا کی کتاب’’ایٹ مائنڈ فل سٹیپس ٹو ہیپی نس‘‘ سے اقتباس

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں