اگر میں گلی میں کسی پاگل شخص کو دیکھتا تو میں اس کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ لیکن میں یہ کیوں سمجھتا ہوں کہ میں کسی نشئی کو عقل کی بات کرکے سمجھا سکتا ہوں؟ میں یہ کیوں سمجھتا ہوں کہ میں ایک نشئی سے بات کرکے اس کا علاج کر سکتا ہو؟ نار انون سے میں نے جانا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔
میں یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں نشئی کا ایک اچھا والد، شریکِ حیات، دوست، بیٹا یا بھائی بن جاؤں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ اگر میں نشئی سے اچھا سلوک کروں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی نشئی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ’’میں نےاس لیے نشہ چھوڑا کیونکہ میرا ماں یا باپ، شریکِ حیات، یا بچہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔‘‘
میں ہمیشہ ’’ایک اور چیز‘‘ کرنے کی کوشش کرتا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ’’ایک اور چیز‘‘ ایسی ہو گی جو کام کر جائے گی۔ نشئی اپنی پستی کو چھو لے گا، اس کو روشنی نظر آ جائے گی، وہ میٹنگ میں جانا شروع کر دے گا اور بحالی کو پا لے گا۔ مجھے یہ جاننے اور قبول کرنے میں بہت عرصہ لگ گیا کہ میرے کرنے کی کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں۔ یہ میری ذمہ داری نہیں تھی۔
نشئی کو نشے سے روکنے کے لیے کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں ہے۔ نار انون نے مجھے دکھایا کہ میں کس طرح نشئی کے بارے میں ایک دوسری طرح کی سوچ اپنا کر اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کر سکتا ہوں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نشہ کر رہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ وہ نشہ نہیں کرے گا میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا تھا۔ میں نے نشئی کے رویے کو اپنے اوپر مسلط کر لیا تھا اور میری سوچ مسخ ہو چکی تھی۔ نار انون سے میں نے سیکھا کہ نشہ ایک خاندانی بیماری ہے۔
میں یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں نشئی کا ایک اچھا والد، شریکِ حیات، دوست، بیٹا یا بھائی بن جاؤں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ اگر میں نشئی سے اچھا سلوک کروں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی نشئی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ’’میں نےاس لیے نشہ چھوڑا کیونکہ میرا ماں یا باپ، شریکِ حیات، یا بچہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔‘‘
میں ہمیشہ ’’ایک اور چیز‘‘ کرنے کی کوشش کرتا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ’’ایک اور چیز‘‘ ایسی ہو گی جو کام کر جائے گی۔ نشئی اپنی پستی کو چھو لے گا، اس کو روشنی نظر آ جائے گی، وہ میٹنگ میں جانا شروع کر دے گا اور بحالی کو پا لے گا۔ مجھے یہ جاننے اور قبول کرنے میں بہت عرصہ لگ گیا کہ میرے کرنے کی کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں۔ یہ میری ذمہ داری نہیں تھی۔
نشئی کو نشے سے روکنے کے لیے کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں ہے۔ نار انون نے مجھے دکھایا کہ میں کس طرح نشئی کے بارے میں ایک دوسری طرح کی سوچ اپنا کر اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کر سکتا ہوں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نشہ کر رہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ وہ نشہ نہیں کرے گا میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا تھا۔ میں نے نشئی کے رویے کو اپنے اوپر مسلط کر لیا تھا اور میری سوچ مسخ ہو چکی تھی۔ نار انون سے میں نے سیکھا کہ نشہ ایک خاندانی بیماری ہے۔
آج کی سوچ
اپنی نار انون میٹنگز کے تحفظ میں میں بارہ اقدام پر کام کر سکتا ہوں، اپنے سپانسر سے بات کر سکتا ہوں اور خدمت کر سکتا ہوں۔ ان طریقوں سے میں اپنی سوچ تبدیل کرنے کی مشق کر سکتا ہوں۔ آہستہ آہستہ سوچ کا ایک نیا انداز اور زندگی گزارنے کا ایک نیا انداز ابھر رہا ہے۔
’’اپنی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے ایک دوسرے سے بالکل برعکس دو رویے ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ باہر کی دنیا کو بدلنے کی کوشش کی جائے، اور دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔‘‘ جوینا فیلڈ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں