میری بیٹی مجھ سے فاصلہ رکھنا پسند کرتی ہے
کیونکہ میں ہر وقت اس کے بارے میں پریشان رہتا تھا۔ میں یہ سوچ کر پریشان رہتا کہ
وہ کہاں ہے، کیا کر رہی ہے اور کیا استعمال کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کا خیال
مجھ پر اس لیے مسلط ہو گیا تھا کیونکہ میں اس سے بہت سخت ناراض تھا۔
میں اپنے غصے، اپنے خوف اور اپنی اداسی کا
سامنا نہیں کرتا۔ میں صرف یہ سوچتا کہ وہ
کتنی ہولناک اور کتنی ناشکری ہے۔ میں اپنی بیٹی کو کسی طرح اپنے ذہن سے نہیں نکال
پاتا۔
میں پریشان رہ رہ کر تھک چکا تھا اور میری
منفی سوچوں نے مجھے گھائل کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے دیکھنا شروع کیا کہ میری
جنونی اور بدبودار سوچوں نے مجھے قابو کر رکھا تھا اور مجھے بیمار کر رہی تھیں۔ اپنے
نار انون گروپ کی مدد سے مجھے یہ احساس ہوا کہ صرف میں ہی اپنی سوچ کو تبدیل کر
سکتا ہوں۔
ایک دن میں نے مختلف طرح سوچنے کا فیصلہ کر
لیا۔ میں نے اپنی بیٹی کی اچھائیوں کی ایک فہرست بنائی۔ بھر جب بھی مجھے اس کے
بارے میں کوئی منفی خیال آتا، میں اس کی خوبیوں کی فہرست دیکھتا اور اس میں سے ایک
خوبی منتخب کرتا اور اس کے بارے میں کچھ دیر تک سوچتا۔ م
ثلاً، میں سوچتا، ’’وہ کتنی لاپروا ہے،‘‘ مگر
میری فہرست میں یہ لکھا ہے کہ اسے روحانیت سے لگاؤ ہے۔ اس لیے میں اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کرکے اس کی روحانیت کی خوبی
کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آہستہ آہستہ، وقت کے ساتھ ساتھ میں نے دیکھا کہ اب میں اس
کے بارے میں بہت کم سوچتا ہوں۔ اس کے بارے میں میرا جنون اور میری منفی سوچ غائب
ہو گئی ۔
نار انون پروگرام نے مجھے علم دیا کہ میں
اپنی سوچ کے بارے میں بے بس نہیں ہوں اور مجھے اس پر اختیار حاصل ہے۔ اس نے مجھے
حوصلہ دیا اور طریقے سکھائے جنہیں استعمال
کر کے میں اپنی سوچ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتا ہوں۔
آج کی سوچ
اگر دوسروں کے رویے میرے دماغ پر طاری ہو
جائیں تو مجھے صرف اپنا رویہ اور سوچ کا مرکز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نشئی کی
قابلِ قدر اور مفید صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ شاید کسی دن میں اپنی توجہ
اپنی طرف مرکوز کر سکوں۔
’’ہماری آزادی کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے
کہ ہم اس بات کا اختیار اور طاقت رکھیں کہ ہم سے باہر کوئی شخص یا کوئی چیز ہم پر
کیسے اثر انداز ہو گی۔‘‘ سٹیفن کووے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں