میں نے پیار سے اپنے سترہ سالہ بیٹے کا نام ’’ری ہیب بوائے‘‘
رکھا ہے، یعنی کہ وہ نشے سے بحالی کے مرکز میں آتا جاتا رہتا ہے۔ آج اسے نشے سے بحالی
کے مرکز میں گئے ایک ماہ ہو گیا ہے اور ابھی اسے تین ماہ وہاں مزید گزارنے ہیں۔
نو
عمری میں جرم کرنے کی وجہ سے عدالت نے نشے سے بحالی کے مرکز میں اس کا چار ماہ
علاج لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے اکثر جرائم
معمولی چوری، منشیات بیچنا، منشیات حاصل کرنے کے لیے جسم فروشی جیسی ساری بدنما چیزیں ہیں۔
دو سال تک میں نے اپنے بیٹے کے علاج کے
لیے سارے روایتی طریقے استعمال کیے۔ ان تمام چیزوں کے استعمال کے باوجود جو عام
طور پر والدین بچوں کو نشے سے نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ سو فیصد قابو سے
باہر تھا۔دنیا کی کوئی چیز اسے نشہ کرنے اور گھر میں اور گھر سے باہر کہرام برپا
کرنے سے نہیں روک سکتی تھی۔ مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ جو طریقہ میں استعمال کر
رہا تھا اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے بھی میرے بیٹے کی مدد کی جا سکتی تھی۔
میں نے اسے کہا کہ اب گھر میں اس کے لیے کوئی
جگہ نہیں۔ اپنے بیٹے کو گھر سے نکالنا ایک باپ ہونے کے حیثیت سے مشکل کام
تھا۔ وہ ایک سال تک سڑکوں پر پڑا رہا، بے
گھر، نشے میں دُھت اور قابو سے باہر۔ اسے دوران میں نار انون فیملی گروپ سے وہ طاقت،
مدد اور یقین حاصل کیا جس کی مجھے ضرورت تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں وہ نہ کرتا جو
میں نے کیا تو شاید آج میرا بیٹا مر چکا ہوتا۔میں شکر گزار ہوں کہ ہو اس دوران
نہیں مرا جس دوران وہ سڑکوں پر زندگی گزار رہا تھا۔ میں اس بات پر بھی شکر گزار
ہوں کہ اس نے گھر کے کسی فرد یا گھر سے باہر کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ مجھے لگتا
ہے کہ اگرمجھے اس کے راستے سے ہٹنے کی ہمت نہ ملتی اور وہ اپنی پستی کو نہ چھوتا
تو اسے وہ مدد نہ ملتی جو آج مل رہی ہے۔
آج کہ سوچ
نشئی کے پاس ایک بالاتر طاقت موجود ہے اور میں نے یہ جانا
کہ میں وہ بالا تر طاقت نہیں ہوں۔ چاہے مجھے اس سے کتنا ہی دکھ نہ پہنچے، مجھے نشئی
کے راستے سے ہٹ جانا چاہئے تاکہ وہ اپنے نشے کے نتائج بھگت سکے۔
’’ہم کسی اور چیز سے اتنا نہیں سیکھتے جتنا برے حالات سے سیکھتے ہیں‘‘ ۔۔۔ بنجمن ڈزرائیلی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں