شروع میں جب میں نارانون پروگرام میں گئی تو میں نے سوچا کہ
میرے لیے بغور اور بے خوفی سے اپنی اخلاقی حالت کا جانزہ ترتیب دینا، ایسے لوگوں
کی فہرست بنانا جنہیں میں نے نقصان پہنچایا ہو اور ان سب کے ساتھ تلافی کا ارادہ
کرنا میرے لیے بیت مشکل ہو گا۔
میں کئی ماہ سے نارانون میٹنگز میں جا رہی تھی اور اپنے
سپانسر کے ساتھ کام کرتی رہی تھی جب اس نے مجھے تجویز دی کہ میں ان تمام لوگوں کی
فہرست بناؤں جنہیں میں نے نقصان پہنچایا اور ان کی بھی جنہوں نے مجھے نقصان
پہنچایا۔
میری سپانسر نے مجھے تجویز دی کہ مجھے اس فہرست میں اپنے
بچپن کی ابتدائی یاداشت سے لے کر آج کے دن تک تم لوگوں کو شامل کرنا چاہئے۔ یہ
فہرست بہت طویل تھی۔
پھر میری سپانسر نے کہا کہ میں اپنے خوف و خدشات کی فہرست
بناؤں اور بچپن سے ہی شروع کروں۔ جب میں نے ان دونوں فہرستوں کو دیکھا تو مجھے
احساس ہوا کہ میرے خدشات، کمزوریوں اور کردار کے نقائص کا میرے تعلقات پر کتنا
گہرا اثر تھا۔
جب میں نے ان دونوں کے درمیان تعلق کو دیکھ لیا تو پھر میں
نے اپنی غلطیوں کی تلافی اور ماضی کو جانے دینے کی اہمیت کو بھی جان لیا۔ میں کئی
سال تک اپنے دماغ میں لوگوں کی اپنی ساتھ کی ہوئی ذیادتیوں کو دہراتی رہی تھی، اسی
لیے میں ماضی میں پھنسی رہی۔
جب میں نے ان لوگوں کو معاف کر دیا جنہوں نے مجھے نقصان پہنچایا تھا اور ان
لوگوں کے ساتھ تلافی کی جنہیں میں نے نقصان پہنچایا تھا تو ناصرف میں نے اپنے ماضی
کو جانے دیا بلکہ ماضی سے جڑی خفگیوں اور ان کی تکلیف سے بھی نجات پالی۔ میں خود
کو ہلکا محسوس کرنے لگی، جیسے ایک بھاری بوجھ میرے کندھوں سے اُتر گیا ہو۔
میرے بہت سے خوف تب شروع ہوئے جب میں بچی تھی۔ اندھیرے کا
خوف، تنہائی کا خوف، اور ناکامی کا خوف۔ ایک دفعہ جب میں نے ان سب کو کاغذ پر لکھ
دیا تو یہ کم ڈراؤنے ہو گئے۔ جیسے ہی میں نے ماضی کو جانے دیا مجھے ایسے تعلقات
میں پھنسے رہنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جو میری ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں
تھے۔
اس مشق کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں کیوں ایسے بُرے تجربات
میں سے بار بار گزر رہی تھی۔ میں انہیں چھوڑ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی بجائے
انہیں درست کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
چوتھے اور آٹھویں قدم نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنی
کمزوریوں کو جانوں اور اپنی طاقتوں کو پہچانوں۔
آج کی سوچ:
اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اپنی خامیوں اور خدشات کو
پہچاننے، دوسروں کو اور اپنے آپ کو معاف کرنے سے مجھے اُمید اور اپنی صلاحیتوں کو
پہچاننے کی طاقت ملی۔
’’اپنی توجہ موجودہ لمحے پر مرکوز رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ
آپ زندگی کی ضرورتوں سے انکار کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے آپ جان گئے ہیں کہ
موجودہ لمحہ ہی دراصل سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ ~ ایکہارٹ ٹولی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں