میری نارانون میٹنگ میں نشے میں معاونت پر بحث
ہوئی۔ ایک رکن نے پوچھا، ’’میں کیسے کسی اجنبی کو خوراک، کپڑے، پیسے اور پناہ دے
سکتا ہوں مگر اپنے پیارے نشئی کی مدد نہیں کر سکتا؟ یہ ٹھیک نہیں ہے کہ میں اجنبی
کو دے سکتا ہوں مگر اپنے خاندان کے فرد کو نہیں۔ اگر میں نشئی سے محبت کرتا ہوں،
جو ایک مرض میں مبتلا ہے، تو اسے بنیادی ضروریات سے کیوں محروم کروں؟‘‘
دوسرے رکن نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ اپنی زندگی میں
شامل نشئی کو پیسے، خوراک، کپڑے یا پناہ دینا اس کی قبر کھودنے میں مدد دینے کے
برابر ہے۔ میں اُسے اپنے اعمال کے نتائج کو بھگتنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ میں اُسے
نشیب میں گرنے اور بحالی کا انتخاب کرنے سے بچا رہا ہوں۔‘‘
جب میں مریض کی معاونت کرتا ہوں تو کیا اس کا
مطلب ہے کہ میں اس سے غیر مشروط محبت کر رہا ہوں؟ کیا میں نشئی کے رویوں کے قدرتی
نتائج کی راہ میں کھڑا ہوں؟ کیا میں ایسا اپنے
خوف اور احساسِ جرم کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہوں؟ کیا میں ایسا اپنے آپ کو بہتر
محسوس کرانے یا یہ محسوس کرانے کے لیے کر رہا ہوں کہ دوسرے کو میری ضرورت ہے؟
محبت
کے ساتھ جانے دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نشئی کو محروم کر رہے ہیں بلکہ اس کا
مطلب یہ ہے کہ ہم اس کو آزادانہ اختیار دے رہے ہیں۔ جب میں اس کی معاونت کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نشئی کو اپنی عظمت اور عزتِ نفس کو پانے کی اجازت نہیں دے رہا ہوتا جو ذمہ داری اُٹھانے اور مسائل کو حل کرنے سے
آتی ہے۔
آج کی سوچ:
میرے پاس اپنی مرضی کرنے کا
اختیار ہے۔ پہلے میں اپنی مقاصد اور پھر اپنے اعمال کے نتائج پر غور کر سکتا ہوں۔ ایک
بار جب میں کوئی چیز منتخب کر لوں مثلاً نشئی کی مدد کرنے یا اپنے تحفط سے متعلق
کوئی حد مقرر کر لوں تو میں استقامت سے اس پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اپنی
بالاتر طاقت کی مدد سے فیصلے کرتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو یاد دہانی کراتا ہوں کہ
چیزیں بدلتی ہیں اگر میں تبدیلی کو نہ بھی دیکھ سکوں۔
’’اگر میں مسئلے میں کھڑا رہوں تو اس کا مطلب ہے
کہ میں حل تلاش نہیں کر رہا۔‘‘ ~ گمنام
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں