یہ حقیقت کہ میرا پیارا، نشے کا عادی ہے اور ایک
مرض کا شکار ہے ایک ایسی سچائی ہے جس کا سامنا کرنا بہت مشکل ہے۔ جب مریض ہمیشہ
دوسروں کے لئے اور اپنے لئے مسائل پیدا کرتا رہتا ہو تو میرے لئے پُراُمید رہنا
بہت مشکل ہوتا ہے۔ مریض کا مدد لینے، جھوٹ بولنا بند کرنے اور اپنی ذمہ داری اٹھانے سے انکار بہت مایوس کن
ہوتا ہے!
میں باآسانی چیزوں کا حل تلاش کرسکتی ہوں، اس
لئے میں خود سے پوچھتی ہوں کہ ’’مریض کیوں نہیں ایسا کر سکتا؟‘‘ ’’کیا مریض رنگین
شیشوں والی عینک پہن رکھتا ہے اور خود کو تسلی دیتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے؟‘‘
جب آفت آتی ہے
تو میرا مریض حیران و پریشان ہو جاتا ہے اورجو
ہوا اسے سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ تب میں اسے جنجھوڑنا چاہتی ہوں اور کہنا چاہتی
ہوں کہ ’’حقیقت کا سامنا کرو۔ یہ اتنی ہی صاف اور واضح ہے جتنی تمھارے چہرے پر
تمہاری ناک! تم ابھی بھی نشےکے عادی ہو اور یہی بنیادی مسئلہ ہے۔‘‘
بلاشبہ مریض کو حقیقت کا سامنا کرنے کے
لئے تیارکرنے کی کوشش کرنا آسان نہیں۔ وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کچھ
غلط ہے اور چیزوں کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جیسے میں دیکھتی ہوں۔
بہت دفعہ تو مریض اپنی نشے کی عادت کو مسئلہ کے
طور پر دیکھنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
رنگین شیشوں والی عینک ہمیشہ اسکی آنکھوں پر لگی
رہتی ہے۔ تاہم کبھی کبھی میں بھی حقیقت ماننے سے انکاری ہوتی ہوں۔ میں خود بھی رنگین
شیشوں والی عینک پہن لیتی ہوں اور خود کو قائل کر لیتی ہوں کہ میں اسے ٹھیک کر
سکتی ہوں۔ کبھی کبھی حقیقت کا سامنا کرنا مشکل ہوتا ہے اور روحانی ترقی کی جدوجہد بہت
تھکا دینے والی ہوتی ہے۔
ایک ایسے انسان کے طور پر جو نشے کے مریض سے
محبت کرتا ہو مجھے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے کہ مجھے اس کی نشے کی بیماری یا اس
سے پیدا ہونے والے مسائل پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ مجھے نشے کے مریض کو اکیلا چھوڑ
دینا چاہئیے تاکہ وہ خود اپنے مسئلے کو سمجھے۔ میں اس کے لئے یہ کام نہیں کر سکتی۔
آج کی سوچ:
مجھے صبر و استقلال کے ساتھ مریض کو اجازت دینی چاہیئے کہ وہ اپنی مرضی اور وقت کے مطابق چیزوں کو سمجھے۔ حقیقت سے انکار سے میری اور مریض کی صحتیابی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
’’ایک معقول انسان دنیا کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے؛
نامعقول انسان دنیا کو اپنے مطابق ڈھالنے پر اصرار کرتا ہے۔‘‘~
جارج برنارڈ شا
بلاشبہ ہم اپنی غیر پسندیدہ حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں حالانکہ ہم بظاہر مریض نہیں، ہم پرفیکشن کی چاہت رکھتے ہیں اور دوسری طرف مکمل پرفیکشن رکھنے والی اعلی طاقت کو بھول جاتے ہیں،
جواب دیںحذف کریں