ہفتہ، 11 اپریل، 2015

بحالی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

جنوری۱
ہر سال کا آغاز گزرے ہوئے سال کے بارے میں سوچنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ عام طور پر ہمارے چیئر پرسن سال کے شروع میں موضوع پیش کرتے ہیں کہ ’’ریکوری یعنی بحالی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟‘‘ اس سوال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میٹنگ میں ہر رکن کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خاص طور پر گزشتہ سال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا تجربہ، خوبی اور امید سب کے ساتھ شیئر کریں۔
 میرے لیے بحالی بہت سارے معنی رکھتی ہے۔ میرے لیے اس کا مطلب ماضی کو جاننا اور قبول کرنا، اور یہ دریافت کرنا ہے کہ میں آج کیا ہوں، ان طاقتوں کو سمجھتے ہوئے جو مجھے یہاں تک لائی ہیں۔ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میرا رویہ ہمیشہ بہتریں نہیں ہوتا تھا کیوں کہ میں تشے کے خلاف رد عمل ظاہر کرتا تھا۔
کیونکہ مجھے اس بات کا شعور نہیں تھا مجھے معلوم ہے کہ میں نے وہ کیا جو ان حالات میں بہترین تھا۔ مجھے احساس ہوا ہے کہ مجھ میں خوبیاں اور خامیاں دونوں ہیں۔ یہ میرے لیے ان پوشیدہ پہلوؤں کو جاننے کا عمل بن گیا ہے جنہوں نے مجھے وہ بنایا ہے جو آج میں ہوں۔
میرے لیے بحالی کا مطلب ان باتوں کو تسلیم کرنا ہے جو میں نے اپنے بارے میں جانی ہیں اور اپنی زندگی میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ میں خوش اور مطمیٔین رہ سکوں۔ بحال میرے لیے ان چیزوں کی کھوج ہے جو مجھے روز کے روز ایک بہتر انسان بننے میں مدد دے سکیں۔
میرے لیے بحالی نار انون کے بارہ اقدام، بارہ روایتوں اور بارہ تصورات پر کام کرنا ہے اور ان کو روزمرہ کی زندگی، خاندان، دوست احباب اور کام کی جگہ پر استعمال کرنا ہے۔ بحالی کا مطلب اس آسان پروگرام کا اس شعور کے ساتھ استعمال ہے کہ میں یہ اپنی ذات کے لیے کر رہا ہوں نا کہ دوسروں کے لیے اور نہ ہی نشئی کے لیے۔
بحالی یہ ہے کہ دوسروں کو اپنا تجربہ، طاقت اور امید دے کر جو کچھ میرے پاس ہے اسے اپنے پاس رکھ سکوں۔ بحالی میرا اپنےآپ کو ایک تحفہ ہے اور جو معنی بحالی میرے لیے رکھتی ہے، یہ دوسروں کے لیے تحفہ ہے۔
آج کی سوچ
میں سمجھتا ہوں کہ میری بحالی کا انحصار میری ثابت قدمی، میٹنگ میں باقاعدگی سے جانے اور رفقا کی خدمت پر ہے۔ اور جو سبق میں نے نار انون پروگرام میں سیکھے ہیں وہ میری اُس ذات کا حصہ بن گئے ہیں جو آج میں ہوں۔
’’میرا خیال ہے کہ اس پروگرام کے بغیر میں اس بات کی قدر نہیں کر سکوں گا کہ مشکل اوقات کے باوجود میری زندگی حیرت انگیز طور پر خوبصورت ہو سکتی ہے۔‘‘ (ان آل آور افئیر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں