نار انون نے مجھے نشے کے مریض سے محبت کرنا مگر مرض سے نفرت کرنا سکھایا۔ میں نے جانا کہ میں نشے کے مریض کو بدل نہیں سکتا۔ میں یہ کرسکتا ہوں کہ میں اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھوں۔
چھ ماہ نار انون کی میٹنگز اور اسکے پروگرام پر کام کرنے سے مجھے طاقت ملی اور میں فیصلہ کیا کہ میں مریض سے کہوں کہ وہ گھر سے نکل جائے۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے فون نہ کرے۔ بہرحال اسکا رویہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور وہ مجھے ہر تین ہفتوں بعد فون کرتی تھی۔ پھر مجھے اسکا ایک ای میل پیغام ملا جس میں اس نے صر ف ایک لفظ لکھا تھا: ٹیسٹنگ۔
اگلے تین دن تک میں چکراتا رہا۔ جنونی سوچیں مجھ پر دوبارہ طاری ہو گئیں۔ مجھے خوشی تھی کہ وہ مجھ سے چھ سو میل دور تھی، ورنہ ہو سکتا تھا کہ میں ایک دن بھی اس سے دور نہ رہ پاتا۔ میں نے اس سلسلے کو ختم کر دیا تھا کیونکہ اس کی نشہ کرنے کی عادت میرے لیے بہت نقصان دہ تھی۔ مجھے اپنے بچوں کی بھی حفاظت کرنا تھی۔
میں نے بالآخر اس بات کو تسلیم کر لیا کہ ایک ایسے انسان کے ساتھ رہنا جو نشہ کر رہا ہو میرے لیے کتنا مہلک تھا۔ میں ابھی بھی بہت غصے میں تھا کہ نشے نے اسے مجھ سے چھین لیا ہے۔ پھر مجھےایک خواب یاد آیا جو میں اس وقت دیکھا تھا جب ہم اکٹھے رہ رہے تھے اور وہ نشہ نہیں کر رہی تھی۔
مجھے خواب میں ایک متعصب، تنگ نظر انسان آیا اور اس نے میری پیاری کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ میں نے اس کو شخس کو مارا، اس کے سر کو کچل دیا اور چیختے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ دو ہفتے بعد وہ دوبارہ نشہ کرنے لگی۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ نشے کے مرض نے اسے مجھ سے اسی طرح چھین لیا ہے جس طرح میرے خواب میں اس بیمار شخص نے اسے مجھ سے چھین لیا تھا۔ اس سوچ نے مجھے نشئی کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے میں مدد دی اور مجھے احساسِ جرم سے نجات دی۔
آج کی سوچ
میں اپنے آپ کو احساسِ جرم کے بغیر کو صحیح کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ میں اپنا خیال رکھتا ہوں اور دوسروں کو محبت سے جانے دیتا ہوں تاکہ وہ بھی اپنا خیال خود رکھ سکیں۔
’’یاد رکھو کہ تم بھی ہر وقت تبدیل ہو رہے ہو اور تم اپنی تبدیلی کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتے ہو۔ اپنے آپ کو صرف تم خود بدل سکتے ہو۔ دوسروں سے تم صرف محبت کر سکتے ہو۔‘‘ نار انون کے نیلے کتابچے سے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں