جب میں نے نار انون آنا شروع کیا تھا تو میں سوچتی
تھی کہ زندگی غیر منصفانہ ہے ۔ میرا شوہر نشے کا مریض ہی کیوں؟ کیا مجھے حق نہیں کہ میرا ایک نارمل،
صحتمند خاندان ہو۔ یہ میری دوسری شادی تھی اور میں اسے کامیاب بنانے کے لیے پر عزم
تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر میں مہربان اور دینے والی بنوں گی تو میرا شوہر بہتر ہو
جائے گا اور میرے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گا۔
میں جب اسے کچھ دیتی تو اس کے بدلے میں توقع رکھتی۔ میرا
دینا اوروہ جسے میں محبت سمجھتی تھی حقیقتاً مشروط تھا۔ تاہم، جیسے جیسے میرے شوہر
کا نشے کا مرض بڑھا، میں ایک نارمل، محبت کرنے والے خاندان یا رشتے کا وہم برقرار
نہیں رکھ سکی۔ میں اس کی نشے کی عادت
چھپانے اور اس کا علاج کرنے کے لیے سخت محنت کرتی مگر ہم دونوں کے رویے عجیب سے
عجیب تر اور غیر صحتمندانہ ہوتے جا رہے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ کوئی مسئلہ ہے اور مسئلہ صرف اس میں نہیں
تھا۔جب ہم آخر کار علیحدہ ہو گئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے دنیا اندھیر ہو گئی
ہے۔ میں تنہا محسوس کرتی، ناکام، کم حوصلہ، اور میں سب سے الگ تھلک ہونا چاہتی۔
اپنی طلاق ہونے سے پہلے میں نے
نار انون کی میٹنگز میں جانا شروع کر دیا اور میں اس کے بعد بھی جاتی رہی۔ کام کے
علاوہ میں صرف ان میٹنگز کے لیے باہر جاتی۔ اس پروگرام میں ایک سال گزارنے کے بعد
مجھے کہا گیا کہ میں گروپ سروس کا نمائندہ بنوں جسے میں نے قبول کر لیا۔ میں نے
سوچا کہ یہ باہر جانے کا ایک اور موقع ہو گا جس کی مجھے ضرورت تھی۔
اپنی پہلی علاقے
کی میٹنگ میں جب ایک عہدیدار نے اعلان کیا کہ وہ یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکیں گی تو
میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اس بار نتائج بہت مختلف تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ نار
انون میں خدمت کے کام کے ذریعے میں بحالی کا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتی ہوں، جیسا
کہ میں خود اس تجربے سے گزری تھی۔ میں نے جانا کہ جب میں بغیر کسی توقع کے دوسروں
کو کچھ دیتی ہوں تو میں صحتمندانہ اور ہمدردانہ طور پر ان کی مدد کر سکتی ہوں۔
آج کی سوچ
میرے لیے نارانون فیلو شپ کو واپس
دینا بے لوث محبت اور شفا یابی کے عمل کا ایک حصہ تھا۔ جب میں خوشی سے، بغیر کسی توقع کےکچھ دیتی تو میں اپنے
لیے اور دوسروں کے لیے شفا یابی کی فضا پیدا کرتی۔
’’لفظوں میں رحمدلی اعتماد پیدا
کرتی ہے۔ سوچ میں رحمدلی گہرائی پیدا کرتی ہے۔ دینے میں رحمدلی محبت پیدا کرتی
ہے۔‘‘ لاؤ سو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں