جب میں پہلی مرتبہ نار انون کے کمرے میں آئی تو میں ’’جیتنے
کے لیے جھکو‘‘ کا مطلب بالکل نہیں سمجھ سکی ۔ میرا خیال تھا کہ ہتھیار ڈالنے کا
مطلب ہے کہ میں ناکام ہو گئی ہوں، اس لیے میں کبھی بھی کسی شخص یا کسی چیز سے
دستبردار نہیں ہوتی ۔ میں جتنی بھی تھکی ہوئی کیوں نہ ہوتی، اپنی جدوجہد برقرار
رکھتی۔ ایک نشے کے مریض شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے میں نے سیکھا تھا کہ اگر کسی بھی
چیز کو ٹھیک ہونے یا مرمت کی ضرورت ہے تو مجھے ہی وہ کام کرنا ہے۔
ایک روز جب میں کام
کے طویل دن کے بعد گھر واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ میرے غسلخانے میں پانی جمع تھااور
بہہ کر میرے سونے کے کمرے تک آ گیا تھا۔
میں فوراً کام میں جت گئی۔ تین گھنٹوں کی محنت کے بعد غسلخانہ ٹھیک اور کمرے صاف
ہوئے۔ گندی اور تھکی ہوئی، میں فوراً نہائی۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے برتن دھونے کی مشین
چلائی تو وہ نہ چلی۔ میں نے فوراً اس کا
نقشہ نکالا اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے کھولنا شروع کر دیا۔ ٹھیک کرنے کے بعد جب بھی
میں دوبارہ مشین چلاتی تو اس کا فیوز جل جاتا۔ چار مرتبہ فیوز جلنے کے بعد وہ لمحہ آیا جب مجھے سمجھ آئی کہ: ہتھیار ڈال دو،
جانے دو اور خدا کو کرنے دو۔
اس دن کے بعد میرے گھر میں ایک نئی روایت شروع ہوئی۔ میں اب
اس وقت کا انتظار کرتی ہوں جب میں اور میرا بیٹا مل کر برتن دھوتے ہیں۔ آج میں برتن
دھونے کی خراب مشین کے لیے شکر گزار ہوں اور یہ بات سمجھنے کے لیے اس سے بھی زیادہ
شکر گزار ہوں کہ جھک جانا سکون کا راستہ ہے۔
آج کی سوچ
میں آج کے دن ہونے والے واقعات پر اپنے ردّ عمل کا انتخاب
کر سکتی ہوں۔ میں انہیں مسائل کے طور پر دیکھ سکتی ہوں یا بہتری کے مواقع کے طور پر۔
’’نیک ساعت کا تحفہ ہمیشہ خوبصورت کاغذ میں لپٹا ہوا نہیں آتا۔‘‘ گمنام
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں