جمعرات، 14 مئی، 2015

ساتھ چھوڑنا


جب میری ماں نے مجھے چھوڑا تو میری نانی نے مجھ سے کہا کہ ان حرکتوں کے باوجود مجھے ہمیشہ اپنی ماں سے محبت کرنی چاہیئے۔ ان کے بغیر میں زندہ بھی نہ ہوتی۔ میرے خیال میں میری ماں ایک آزاد منش باغی تھی۔ اس نے مجھے نہیں پالا، میری نانی نے مجھے پالا۔ میں اپنی نانی کے میعار کے مطابق ایک اچھی بچی تھی کیونکہ میں اکثر وہی کرتی جو مجھ سے کہا جاتا۔ بڑا ہونے کے بعد بھی میں کچھ غلط نہیں کرنا چاہتی تھی، کیونکہ میں نے یہ سیکھا تھا کہ لوگوں کو خوش کر کے میں اچھا اور پیارا محسوس کرتی ہوں۔ میں محبت چاہتی تھی مگر میں اپنی ماں کی طرح نہیں بننا چاہتی تھی۔

میں نے جلد شادی کر لی اور میرے تین بچے ہوئے۔ جب میرا چوتھا بچہ ہونے والا تھا تو میرا شوہر باہر سیر کرنے گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ مجھے پھر لگا کہ مجھے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں سارا دن کام کرتی، ہمیشہ میرے منہ پر مسکراہٹ ہوتی حالانکہ میرا دل اندر سے  دکھا ہوا تھا۔ میں مصروف رہتی، اپنے خاندان کو سہارا دیتی، مگر میرے  اپنے پاس کوئی مدد نہ تھی۔ میں نے مدد تلاش بھی نہ کی۔ میں زندہ رہنے اور یہ ثابت کرنے کہ میں ایک مضبوط انسان ہوں، صحیح کام کرنے  اور یہ ثابت کرنے کہ میں اپنی ماں کی طرح نہیں ہوں کی جدوجہد میں بہت زیادہ مصروف تھی ۔

جب میرے بچے بڑے ہو گئے تو انہوں نے نشہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مجھے ایک مرتبہ پھر محسوس ہوا کہ مجھے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کے تین بچوں کو بھی پالا ہے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ میں نے محبت سے ان کا خیال رکھا اور انہیں سب کچھ دیا۔ ایک مرتبہ پھر میں نے اپنے آپ کو پیچھے دھکیل دیا۔

آخر کار میں نے نار انون جا کر مدد مانگی۔ نار انون کے پروگرام اور میری بالاتر طاقت کے ذریعے میری زندگی بچی۔ میں نے جانا کہ میں نے اپنے آپ کو خود پیچھے دھکیل دیا تھا اور تنہا چھوڑ دیا تھا۔ آج میں بہت شکر گزار ہوں اور تنہا چھوڑے جانے کی تجربات کا دکھ ختم کرنے کی جدوجہد میں نہیں ہوں۔ میں نار انون خاندان کے محبت بھرے سہارے کی بدولت آج ایک نئی انسان ہوں۔ میں نے نار انون فیملی پروگرام سے بہت سی اچھی باتیں سیکھیں اور زندگی گزارنے کے بہتر طریقے سیکھے۔ میں اب دوسروں کی زندگی میں اپنے آپ کو تنہا چھوڑے بغیر حصہ ڈال سکتی ہوں۔

آج کی سوچ
میں نے یہ جانا کہ ہے میں معاف کر سکتی ہوں اور وہ چیزیں دہرانے کی خوف کے بغیر رہ سکتی ہوں جنہیں میں اپنی ماں کی غلطیاں سمجھتی تھی۔ میں دوسروں سے محبت کرنا چھوڑے بغیر اپنے لیے وہ کر سکتی ہوں جو میرے لیے صحیح ہے۔

’’محبت ہر اس شخص کا حصہ ہے جو زندہ ہے اور سانس لیتا ہے۔ محبت وہ طاقت ہے جو سب انسانوں کو ایک گہرے  سمندر کے قطروں کی طرح ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتی  ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ محبت سے نہ ہوں؟ اگر آپ کو اپنے اندر محبت نظر نہیں آتی تو پھر آپ نے اندر دیکھا ہی نہیں۔‘‘ رون راتھبن

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں