‏خوشی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏خوشی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 18 ستمبر، 2015

آگاہی

آج میں نے پرندوں کو گاتے سُنا! مجھے نہیں یاد کہ آخری بار کب میں نے پرندوں کو گاتے سُنا تھا۔ اوہ، پرندے روزانہ میرے صحن میں گاتے ہیں، لیکن جب نشے کی بیماری میری زندگی میں داخل ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ میں نے اپنی زندگی اور اردگرد پھیلی دنیا کو سراہنے کی صلاحیت اور  اپنی سمت کھو دی تھی۔ میں نے کافی عرصے سے پرندوں کو گاتے نہیں سُنا تھا لیکن آج میں نے سُنا۔

میں بہت حیران ہوں کہ پرندوں کو گاتے ہوئے سُننا کتنا اچھا محسوس ہوتا ہے۔ ہاں، مجھے سُن کر اچھا لگا۔ میں نے سوچا نہیں لیکن محسوس کیا۔ گیت سُریلے اور لَے میں تھے۔ میں نے ایک پرندہ ماں کا تصور کیا جو اپنے بچے کو گھونسلے سے باہر لانے کی کوشش کرتی ہے۔ میں نے تصور میں دیکھا کہ (گیتوں کے ذریعے) ایک پرندہ ماں اپنے بچے کی پروں کو پھڑپھڑانے میں حوصلہ افزائی کررہی ہے۔

یہ ایک نہایت خوبصورت آواز تھی، ایک ایسی آواز جس کی میں نے ماضی میں کئی سالوں تک بہت زیادہ کمی محسوس کی۔ لیکن آج میں نے پرندوں کو گاتے سُنا۔

آج کی سوچ:

نشے کی بیماری نے مجھ سے زندگی کی سادہ چیزوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو چھین لیا تھا۔ میں اپنے اردگرد پھیلی خوبصورتی پر غور ہی نہیں کرتا تھا۔ نارانون کی مدد سے میں اب رُک کر دنیا سے لُطف اندوز ہو سکتا ہوں اور ان تحائف سے خوشی محسوس  کر سکتا ہوں جو مجھے دل کھول کر دیے جاتے ہیں۔ 

’’خوشی تک سفر نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی اس کی ملکیت حاصل کی جا سکتی ہے، نہ یہ کمائی جاسکتی ہے، نہ ہی یہ پرانی ہوتی اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔ خوشی ہر لمحے میں محبت، فضل اور شکرگزاری کیساتھ جینے کا روحانی تجربہ ہے۔‘‘ ~ ڈینس ویٹلی

پیر، 14 ستمبر، 2015

خوشی

جب مجھے پتہ چلا کہ میرے عزیز منشیات کے عادی تھے تو مجھے بہت دُکھ پہنچا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں کبھی دوبارہ خوش نہیں ہوسکوں گی۔ خوشی میری زندگی سے جا چکی تھی۔ تب میں نے نارانون میٹنگ میں جانا شروع کیا۔ میٹنگز میں میں نے دوسروں کو اپنے جیسے حالات میں پایا مگر ان کی زندگی میں اب بھی خوشی موجود تھی۔ جب میں نے اپنی بحالی اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کر کے پروگرام پر عمل کیا تو میں نے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا، اور ایک بار پھر خوشی محسوس کرنا شروع کی۔

میں اپنے گھر کے پچھلے صحن بیٹھ کر تتلیوں کو دیکھتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہوں۔ یہ بہت پُرسکون جگہ ہے اورمجھے لگتا ہے کہ میں ایک ہی سفید اور بھورے رنگ کی ایک تتلی کو دیکھتی ہوں۔ آج جب وہ آئی تو مجھے سکون کا احساس ہوا جیسے وہ میرے ساتھ کھیل رہی ہو۔ وہ صحن میں ادھر اُدھر اڑتی، پھڑپھڑاتی اور پھر میری طرف واپس آتی، پھر ایک دم اوپر اُڑ جاتی۔ اسی طرح تین یا چار بار ہوا۔ میں آٹھ سال کے بچے کی طرح کھکھلا کر ہنس رہی تھی۔

اگلی دفعہ جب تم تتلی کو دیکھو تو ایک منٹ کے لئے اپنی بالاتر طاقت کے بارے میں سوچنا۔ محبت کو محسوس کرنا، اپنے سے بڑی اس طاقت کا کسی چیز کے لئے شکر ادا کرنا اور اس بات کو تسلیم کرنا کہ یہ اس طاقت کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ تھا۔ تمہاری روح اس سے مسکرانے لگے گی۔

آج کی سوچ:

میں اس سکون اور اطمینان کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے اس وقت ملا جب میں نے محبت سے اپنے عزیز نشے کے مریضوں کو جانے دینا اور نشئی کو بدلنے کی کوشش کو ختم کرنا شروع کیا۔ میں اس رہنمائی کے لئے بھی شکرگزار ہوں جس نے یہاں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میں ان لوگوں کے لئے دعا کرتی ہوں جو ابھی بھی اپنے کسی دوست یا عزیز کے نشے کی وجہ سے تنہا ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کو بھی اس میٹنگ کا راستہ پانے کی مدد ملے تاکہ جو تحفے مجھے اتنے کھل کر دیے گئے میں انہیں واپس دے سکوں اور جو لوگ نشے کے مریضوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہیں ان کے ساتھ اپنا تجربہ، استحکام اور اُمید بانٹ سکوں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ جب میں دوسروں تک پہنچنے کی کوشش کروں تو میں اپنی روایات ذہن میں رکھوں۔ میں اپنے لیے اور اپنے مریضوں کے لیے اپنی بالاتر طاقت کی محبت اور خیال پر اعتماد کرتی ہوں۔

’’تمہارے سوا کوئی بھی تمہیں پُرسکون نہیں کر سکتا۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن