اتوار، 1 نومبر، 2015

بالاتر طاقت کا مرتبان

کئی مہینوں تک پروگرام پر کام کرنے اور میٹنگ میں جانے کے باوجود میں ایسا محسوس کرتا تھا کہ میں کئی ایک ایسی چیزوں کو چھوڑ نہیں پا رہا جن کے بارے میں جانتا ہوں کہ میرا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
ایک خاص چیز جو مجھ پر بوجھ بنی ہوئی تھی وہ میرے نشئی کا غصہ تھا۔ وہ اپنی مرضی سے نوے دن کے بحالی کے پروگرام میں گزارنے کے بعد ایک عارضی جگہ میں رہ رہا تھا، لیکن جب بھی ہماری بات چیت ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض ہی رہتا۔
یہ غصہ مجھے پاگل کر رہا تھا۔ میں یہ نہیں جان پایا کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے کہ وہ میرے ساتھ اتنا غصہ کرتا ہے اور نہ ہی میں اسکو قائل کرسکا کہ اسے مجھ سے اتنا ناراض نہیں ہونا چاہئیے۔
آخرکار میں نے اس مسئلے کو میٹنگ میں بیان کیا اور دوسروں کی رائے لینے کے لینے خود کو پیش کر دیا۔ ہر کسی نے تجویز دی کہ مجھے اس کے غصے کو جانے دینا چاہئیے، یہ اس کا معاملہ ہے۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میں یہ کیسے کروں۔
ایک شخص میٹنگ سے اُٹھ کر گیا اور مونگ پھلی کا ایک خالی مرتبان لے کر واپس آیا۔ اُس نے ڈھکن بند کرکے لیبل کو پینٹ کردیا تھا اور اس میں ایک درز بنا دی تھی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ یہ اُس کا ’’خدائی مرتبان‘‘ ہے لیکن جب تک میں اپنا خدائی مرتبان نہیں بنا لیتا میں اِسے استعمال کرسکتا ہوں۔
اُس نے مجھے کہا کہ میں ایک کاغذ پر وہ سب کچھ لکھوں جو میں اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرنا چاہتا ہوں اور اُس کاغذ کو لپیٹ کر ڈھکن پر بنی درز سے مرتبان میں ڈال دوں۔ ایک بار جو چیز مرتبان میں چلی جائے گی وہ میں واپس نہیں نکال سکتا۔ اگر میں دوبارہ کبھی اس مسئلے پر پریشان ہوں تو مجھے صرف یہ یاد کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب یہ میرا مسئلہ نہیں۔
سوچنے، اس کو کاغذ پر لکھنے اور عملی طور پر اس کو مرتبان میں ڈالنے کے عمل نے بہت زبردست کام کیا۔ اگلے دن اس شخص نے مجھے میرا اپنا مرتبان لا دیا، اور اب یہ مرتبان بہت بھاری ہو چکا ہے، لیکن میری روح بہت ہلکی ہے۔
آج کی سوچ:
میں نہیں کرسکتا، لیکن خدا کرسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے خدا کو کرنے دینا چاہیئے۔

’’علم کا مطلب ہے ہر روز کچھ سیکھنا جبکہ دانشمندی کا مطلب ہے ہر روز کسی چیز کو جانے دینا۔‘‘ ~ نامعلوم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں