‏پروگرام پر عمل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏پروگرام پر عمل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

نصیحت یا تقریر

گزشتہ شام ہماری میٹنگ کا موضوع ’’نصیحت‘‘ تھا۔ میں کئی برسوں سے نارانون پروگرام میں ہوں اور ’نصیحت‘ کا لفظ ہمیشہ مجھے اپنی زندگی میں موجود نشئی سے اپنے مکالموں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وہ میری نصیحت کو تقریر سمجھتا۔ جب میں نے یہ بات میٹنگ میں شئیر کی تو میں نے دیکھا کہ دوسروں نے رضامندی سے سر ہلایا۔

میں اور نشئی اپنے بحالی کے عمل میں ایسے مقام پر ہیں کہ میں نے نشئی سے کہا کہ جب وہ محسوس کرے کہ میں اُس کے سامنے تقریر کررہا ہوں تو مجھے بتا دے تاکہ میں اپنی اس شخصی خامی پر کام کر سکوں۔

میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اس قابل بنانے کے لئے خود کو وقت دے سکتا ہوں۔ میرے پاس کوئی جادوئی جواب نہیں ہیں۔ میں کتنی بھی خواہش کرلوں لیکن میں ایک دم سے اپنی پرانی عادتیں جانے نہیں دے سکتا۔

جب میں ان عمل کرنے کیلئے تیار ہوجاؤں گا تو بارہ اقدام میری مدد کیلئے موجود ہوں گے۔ میں اُنہیں اپنانے کی زبردستی نہیں کرسکتا۔ میں قبول کرتا ہوں کہ ایک دن میں ہر ایک قدم پر کام کرنے کیلئے تیار ہوں گا اور اس وقت میری بالاتر طاقت بھی میرے ساتھ ہوگی۔ میں شکرگزار ہوں کہ میرے پروگرام نے مجھے یہ احساس دلانے میں میری مدد کی۔

آج کی سوچ:

میرے پاس سب سوالوں کے جواب نہیں اوراس میں کوئی خرابی نہیں۔ آج میں اپنے پروگرام پر کام کروں گا اور صرف اسی وقت اپنی رائے اور تجویز پیش کروں گا جب مجھ سے پوچھا جائے گا۔ میں اپنی پرانی لیکچر دینے والی عادت کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔

’’نصیحت کو بہت کم لوگ خوش آمدید کہتے ہیں اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم ہی اِسے پسند کرتے ہیں۔‘‘ لارڈ چیسٹر فیلڈ

جمعرات، 8 اکتوبر، 2015

واپس آتے رہنا

میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اگر میں نارانون جاتا اور وہاں میری مدد کرنے کے لئے کوئی بھی موجود نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ ناصرف وہاں میٹنگز ہوتی ہیں جن سے مجھے مضبوطی، اُمید اور تجربہ ملتا ہے جو مجھے مشکل حالات سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے بلکہ وہاں نارانون ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کی میں تکلیف میں مدد کر سکتا ہوں۔

یہ سب ممکن نہیں ہوسکتا اگر میں اپنے پروگرام پر کام کرنا بند کردوں اور میٹنگز میں آنا بند کردوں۔ میرے گروپ میں بہت سے لوگ آتے رہتے ہیں اور پھر دوبارہ لوٹ کے نہیں آتے یا پھر اپنے بحران کے گزرنے کے بعد آنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ان نارانون ارکان کے بغیر جو اچھے حالات میں بھی پروگرام پر کام جاری رکھتے ہیں میٹنگز ہونا ممکن نہیں۔ میرے لئے سب سے بہترین احساس ہے کسی شخص کی بحران سے باہر آنے میں مدد کرنا یا پھر یہ جاننا کہ وہ اس بات کو سراہتے ہیں کہ میں اُنہیں سُننے کے لئے وہاں موجود تھا۔

جب میں تکلیف میں ہوں تو وہاں موجود کسی سپانسر یا رُکن کی مدد اور آسرا میرے لئے بے انتہا اور بے پایاں معانی رکھتا ہے۔ میں نے یہ چیزیں یاد رکھتا ہوں اور نئے ارکان کو خوش آمدید کہنے کے لیے وہاں موجود رہتا ہوں اور یاد رکھتا ہوں کہ مجھے کیسا لگا تھا جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔

آج کی سوچ:

یہ سب کچھ نارانون کے متعلق ہے ۔۔۔ ہر شخص دوسرے کی مدد کرے، وہ چیز واپس کرے جو اسے بغیر کسی حساب کے دی گئی۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہم دوسروں کو دیں۔


’’زندگی کی کہانی لکھنا آسان ہے مگر اس پر چلنا بہت پریشان کن ہے۔‘‘ ~ لوئیز ارڈرچ

پیر، 14 ستمبر، 2015

خوشی

جب مجھے پتہ چلا کہ میرے عزیز منشیات کے عادی تھے تو مجھے بہت دُکھ پہنچا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں کبھی دوبارہ خوش نہیں ہوسکوں گی۔ خوشی میری زندگی سے جا چکی تھی۔ تب میں نے نارانون میٹنگ میں جانا شروع کیا۔ میٹنگز میں میں نے دوسروں کو اپنے جیسے حالات میں پایا مگر ان کی زندگی میں اب بھی خوشی موجود تھی۔ جب میں نے اپنی بحالی اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کر کے پروگرام پر عمل کیا تو میں نے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا، اور ایک بار پھر خوشی محسوس کرنا شروع کی۔

میں اپنے گھر کے پچھلے صحن بیٹھ کر تتلیوں کو دیکھتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہوں۔ یہ بہت پُرسکون جگہ ہے اورمجھے لگتا ہے کہ میں ایک ہی سفید اور بھورے رنگ کی ایک تتلی کو دیکھتی ہوں۔ آج جب وہ آئی تو مجھے سکون کا احساس ہوا جیسے وہ میرے ساتھ کھیل رہی ہو۔ وہ صحن میں ادھر اُدھر اڑتی، پھڑپھڑاتی اور پھر میری طرف واپس آتی، پھر ایک دم اوپر اُڑ جاتی۔ اسی طرح تین یا چار بار ہوا۔ میں آٹھ سال کے بچے کی طرح کھکھلا کر ہنس رہی تھی۔

اگلی دفعہ جب تم تتلی کو دیکھو تو ایک منٹ کے لئے اپنی بالاتر طاقت کے بارے میں سوچنا۔ محبت کو محسوس کرنا، اپنے سے بڑی اس طاقت کا کسی چیز کے لئے شکر ادا کرنا اور اس بات کو تسلیم کرنا کہ یہ اس طاقت کی طرف سے دیا جانے والا تحفہ تھا۔ تمہاری روح اس سے مسکرانے لگے گی۔

آج کی سوچ:

میں اس سکون اور اطمینان کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے اس وقت ملا جب میں نے محبت سے اپنے عزیز نشے کے مریضوں کو جانے دینا اور نشئی کو بدلنے کی کوشش کو ختم کرنا شروع کیا۔ میں اس رہنمائی کے لئے بھی شکرگزار ہوں جس نے یہاں تک پہنچنے میں میری مدد کی۔ میں ان لوگوں کے لئے دعا کرتی ہوں جو ابھی بھی اپنے کسی دوست یا عزیز کے نشے کی وجہ سے تنہا ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کو بھی اس میٹنگ کا راستہ پانے کی مدد ملے تاکہ جو تحفے مجھے اتنے کھل کر دیے گئے میں انہیں واپس دے سکوں اور جو لوگ نشے کے مریضوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہیں ان کے ساتھ اپنا تجربہ، استحکام اور اُمید بانٹ سکوں۔ میں دعا کرتی ہوں کہ جب میں دوسروں تک پہنچنے کی کوشش کروں تو میں اپنی روایات ذہن میں رکھوں۔ میں اپنے لیے اور اپنے مریضوں کے لیے اپنی بالاتر طاقت کی محبت اور خیال پر اعتماد کرتی ہوں۔

’’تمہارے سوا کوئی بھی تمہیں پُرسکون نہیں کر سکتا۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن

بدھ، 2 ستمبر، 2015

ایک دفعہ کرکے تو دیکھو!

جب میں نے نارانون میٹنگز میں جانا شروع کیا تو ایک رکن جو کئی برس سے بارہ اقدام کے پروگرام میں تھا مجھے مسلسل یاد دلاتا کہ ’’یہ سب بارہ اقدام کے بارے میں ہے۔ ان اقدام کو استعمال کرو۔‘‘ میری حالت بھی اس نوجوان جنگجو کی سی تھی جو کسی نشئی کی شرانگیز سلطنت کو دھماکے سے اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا، جسے کہا جا رہا تھا ’’اقدام کو استعمال کر، بیٹے، اقدام کو استعمال کرو۔‘‘

میں اقدام پر عمل کرکے دیکھ سکتا ہوں، خود پر یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ نارانون فیملی گروپ پروگرام، جس کا خلاصہ نارانون کے نیلے کتابچے میں دیا گیا ہے وہ میرے لیے معاون ہے۔ جو اس میں لکھا ہے وہ درست ہے۔ میں واقعی سکون اور اطمینان حاصل کر سکتا ہوں۔
میرے ساتھی رُکن نے تجویز دی کہ اگر میں بارہ اقدام پر خود عمل کرنے کے لیے تیار ہوں تو جو فائدہ اسے ہوا وہ مجھے بھی ہو سکتا ہے۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ میں اپنے تجربے سے سیکھ سکتا ہو کہ یہ سب سچ ہے۔ تجویز یہ تھی کہ میں اقدام پر عمل کروں، اوران اقدام کو خود پرکھوں۔

میں جانتا ہوں کہ سالہا سال کی مشق سے ان اقدام پر میرا اعتماد بڑھ چکا ہے اور میں اب بھی ان پر عمل پیرا ہوں۔ نویں قدم نے مجھے دنیا میں ہر انسان اور ہر چیز کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے میں مدد دی۔ اس سے مجھے ذہنی سکون ملا اور پچھتاوے کے احساس رہائی ملی۔

مجھے یہ پتا چلا کہ جب میں پروگرام کی تمام باتوں پر خلوصِ نیت سے عمل کرتا ہوں تو مجھے وہ فائدہ ملتا ہے جو پروگرام کہتا ہے کہ ملے گا۔ مختصر یہ کہ جب میں اس پر عمل کرتا ہوں تو یہ میرے لئے بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔

آج کا سوچ:

میں بیٹھ کر اقدام کے بارے میں جتنی مرضی رائے زنی اور بحث کروں کہ آیا اقدام اُسی طرح کام کریں گے جیسا کہ پروگرام کہتا ہے کہ نہیں، مگر میں کچھ نہیں سیکھ سکوں گا۔ تاہم اگر میں اس پر ایک دفعہ عمل کروں، اگر میں اُسے جانچوں، اگر میں پروگرام کی باتوں پر عمل کروں، لامحالہ طور پر میں دیکھوں گا کہ یہ اقدام اثر کرتے ہیں اور ان کی روحانی اہمیت پر میرا اعتماد غیر متزلزل ہو جائے گا۔

’’ابتدا اس چیز سے کرو جو کرنا لازمی ہو، پھر وہ کرو جو کرنا ممکن ہو، اور پھر اچانک تم ناممکن کام بھی کرنے لگو گے۔‘‘ ~ سینٹ فرانسس