بدھ، 2 ستمبر، 2015

ایک دفعہ کرکے تو دیکھو!

جب میں نے نارانون میٹنگز میں جانا شروع کیا تو ایک رکن جو کئی برس سے بارہ اقدام کے پروگرام میں تھا مجھے مسلسل یاد دلاتا کہ ’’یہ سب بارہ اقدام کے بارے میں ہے۔ ان اقدام کو استعمال کرو۔‘‘ میری حالت بھی اس نوجوان جنگجو کی سی تھی جو کسی نشئی کی شرانگیز سلطنت کو دھماکے سے اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا، جسے کہا جا رہا تھا ’’اقدام کو استعمال کر، بیٹے، اقدام کو استعمال کرو۔‘‘

میں اقدام پر عمل کرکے دیکھ سکتا ہوں، خود پر یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ نارانون فیملی گروپ پروگرام، جس کا خلاصہ نارانون کے نیلے کتابچے میں دیا گیا ہے وہ میرے لیے معاون ہے۔ جو اس میں لکھا ہے وہ درست ہے۔ میں واقعی سکون اور اطمینان حاصل کر سکتا ہوں۔
میرے ساتھی رُکن نے تجویز دی کہ اگر میں بارہ اقدام پر خود عمل کرنے کے لیے تیار ہوں تو جو فائدہ اسے ہوا وہ مجھے بھی ہو سکتا ہے۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ میں اپنے تجربے سے سیکھ سکتا ہو کہ یہ سب سچ ہے۔ تجویز یہ تھی کہ میں اقدام پر عمل کروں، اوران اقدام کو خود پرکھوں۔

میں جانتا ہوں کہ سالہا سال کی مشق سے ان اقدام پر میرا اعتماد بڑھ چکا ہے اور میں اب بھی ان پر عمل پیرا ہوں۔ نویں قدم نے مجھے دنیا میں ہر انسان اور ہر چیز کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے میں مدد دی۔ اس سے مجھے ذہنی سکون ملا اور پچھتاوے کے احساس رہائی ملی۔

مجھے یہ پتا چلا کہ جب میں پروگرام کی تمام باتوں پر خلوصِ نیت سے عمل کرتا ہوں تو مجھے وہ فائدہ ملتا ہے جو پروگرام کہتا ہے کہ ملے گا۔ مختصر یہ کہ جب میں اس پر عمل کرتا ہوں تو یہ میرے لئے بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔

آج کا سوچ:

میں بیٹھ کر اقدام کے بارے میں جتنی مرضی رائے زنی اور بحث کروں کہ آیا اقدام اُسی طرح کام کریں گے جیسا کہ پروگرام کہتا ہے کہ نہیں، مگر میں کچھ نہیں سیکھ سکوں گا۔ تاہم اگر میں اس پر ایک دفعہ عمل کروں، اگر میں اُسے جانچوں، اگر میں پروگرام کی باتوں پر عمل کروں، لامحالہ طور پر میں دیکھوں گا کہ یہ اقدام اثر کرتے ہیں اور ان کی روحانی اہمیت پر میرا اعتماد غیر متزلزل ہو جائے گا۔

’’ابتدا اس چیز سے کرو جو کرنا لازمی ہو، پھر وہ کرو جو کرنا ممکن ہو، اور پھر اچانک تم ناممکن کام بھی کرنے لگو گے۔‘‘ ~ سینٹ فرانسس

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں