پیر، 28 ستمبر، 2015

اونچی لہروں پر سواری کرنا

میں نے یہ بیان کرنے کیلئے استعارہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ میں کس طرح تمہاری نشہ میں ڈوبی زندگی کو دیکھتی ہوں۔ جب میں ساحل کے کنارے پر بیٹھی تھی تب مجھے وہ استعارہ مل گیا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ تم سمندر کی اونچی لہروں پر سواری کر رہے ہو! 

ایک طویل عرصہ سے میں تمہیں یا تم کہاں رہے ہو کے بارے میں نہیں جانتی۔ میں تمہیں سُن سکتی تھی لیکن تمہیں دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اب میرے ذہن میں یہ تصور ہے کہ تم کہاں رہے ہو مگر میں یہ نہیں سمجھ سکتی کہ تم کیوں اپنے پرانے ہلاکت خیز رویے کی طرف واپس لوٹنا چاہتے ہو۔

میں خیال کرتی ہوں کہ کوئی شخص جو تیر کر ساحل پر پہنچ جائے اور خطرناک قسم کی اونچی سمندری لہروں سے زندہ بچ نکلے وہ اپنی خوش قسمتی کو یاد رکھے گا اور کبھی واپس نہیں جائے گا۔

پھر بھی اپنی بحالی کے دوران میں تم نے دوبارہ نشہ آزمانے کی اپنی خواہش بیان کی! میرا غصہ گلے تک آ گیا جب میں اپنی زبان پر آنیوالے ان الفاظ کو دبا رہی تھی کہ ’’کیا تم اپنے حواس میں تو ہو؟‘‘ یقیناً تم اپنے حواس میں ہو۔ یہ نشے کا پاگل پن بول رہا ہے۔ میں جانتی ہوں یہ کیا ہے، میں اسے سُننا برداشت نہیں کر سکتی مگر یہی تمہاری سچائی ہے اور مجھے اس کو لازمی قبول کرنا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اونچی سمندری لہروں پر سواری کی ہے صرف وہی جانتے ہیں کہ ان سے کیسے زندہ بچنا ہے۔ تمہیں لازمی اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے ایک سپانسر تلاش کرنا چاہیئے۔ میں نے تمہیں تمہارے پاگل پن سے بچانے کی اس حد تک کوشش کی کہ میں خود کو تباہ کرنے کے قریب پہنچ گئی۔ لیکن نارانون سے میں نے سیکھا کہ مجھے ساحل کنارے پر انتظار کرنا چاہیئے۔

جب میں تمہارا انتظار کررہی ہوں گی کہ تم کب اونچی لہروں پر سواری کرنا بند کرو گے اس وقت میں اپنے سکون و اطمینان کے لئے دعا کروں گی جس کی مجھے ضرورت ہے۔

آج کی سوچ:

میں خود کو نشے کی عادت کی اونچی لہر میں جھونکنے کا خطرہ مول نہیں لوں گی۔ میں میٹنگ میں جاؤں گی یا نارانون کے کسی ساتھی کو ٹیلی فون کروں گی، مگر میں تمہارے ساتھ اونچی لہروں کی سواری نہیں کروں گی۔


’’کسی چیز کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں اسے پسند کیا جائے۔‘‘ ~ آئیانلا وین زنت

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں