میرے
لئے سب مسائل کا الزام اپنی زندگی میں موجود نشے کے مریضوں کو دینا آسان کام ہے
لیکن انہیں الزام دینے سے میرے حالات میں بہتری نہیں ہوتی اور یقیناً اُن کے حالات
بھی بہتر نہیں ہوتے۔ درحقیقت نشئی کے مسائل، کمزوریوں اور رویوں پر توجہ دینے سے
میں اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے بچ جاتی ہوں اور ایسا کرنا مجھے صحت مند اور خوش
انسان بننے سے روکتا ہے۔
جب
میں خود پر توجہ دیتی ہوں تو میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔ جب
نشئی مجھ سے میری گاڑی یا پیسے مانگے تو میں نا کہہ سکتی ہوں۔ میں بحث کے چکر میں نہ
پڑنے کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہوں۔ میں بحث کے سلسلے کو روک کر اپنے سپانسر کو
فون کر سکتی ہوں۔ حتیٰ کہ میں نشے کے مریضوں کو اپنی رائے رکھنے کا حق دے سکتی ہوں۔
مجھے مریض کی جیل سے کی گئی کالز کی ادائیگی
کرنے یا اس کے وکیل کی فیس بھرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کے بچاؤ کے
مشن میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نشئی کو اسکے اعمال کے نتائج بھگتنے دے سکتی
ہوں۔
حتیٰ
کہ مجھے خود کو بھی الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی ماضی کی غلطیوں کے لئے
خود کو معاف کرسکتی ہوں اور جو کچھ مجھ سے ہو سکتا ہے صرف آج کے دن کے لیے کر سکتی
ہوں۔ نارانون پروگرام مجھے سکھاتا ہے کہ مجھے بے عیب ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ
روحانی ترقی حاصل کرنے کا پروگرام ہے نہ کہ بے عیب ہونے کا۔
آج
کی سوچ:
خود
سمیت دوسروں کو الزام دینا ترقی نہیں۔ یہ مجھے روکے رکھتا ہے۔ جب میں الزام دیتی
ہوں تو میں ترقی نہیں کر رہی ہوتی اور میری بحالی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
’’زندگی
کو دیکھنے کے صرف دو ہی نظریے ہیں۔۔۔۔ مظلوم کی طرح یا بہادر جنگجو کی طرح۔۔۔ اور
تمہیں لازمی فیصلہ کرنا ہے کہ تم عمل کرنا چاہتے ہو یا ردعمل، اپنے پتوں سے کھیلنا
چاہتے ہو یا پھر دوسرے کو ہرانے کے لیے پتوں میں ہیرا پھیری کرنا چاہتے ہو۔ اور
اگر تم فیصلہ نہ کرپائے کہ زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے تو ہمیشہ زندگی تمہارے
ساتھ کھیل کھیلے گی۔‘‘ ~ مرلی شین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں