بدھ، 9 ستمبر، 2015

نشئی کے مسائل سے علیحدگی اختیار کریں

میں محبت سے لاتعلقی اختیار کرنے کی مشق کر رہی ہوں اور یہ میرے لئے مددگار ہے۔ اب میں مزید اس فکر میں راتیں جاگتے ہوئے نہیں گزارتی کہ میری بیٹی گلیوں میں کہیں سو رہی ہے۔ اب میں نے اس بارے میں جنونی انداز میں سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ وہ کس وقت کہاں پر ہے۔ میں صبح کے تین بجے اپنے فون کے بجنے پر بھی پریشان نہیں ہوتی، جب وہ یہ بتانے کےلئےفون کرتی ہے کہ وہ دوبارہ جیل میں ہے۔

میرا دل اس وقت اپنی بیٹی کے لئے پسیج جاتا ہے جب وہ مجھے فون کرکے بتاتی ہے کہ اسے بھوک لگی ہے لیکن نارانون پروگرام کی وجہ سے میں اب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کو کھانا پہنچانے گھر سے نہیں بھاگتی ہوں۔ یہ سب میرے لئے تکلیف دہ ہے لیکن میں اس سے نمٹنا سیکھ رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ جب میں نشئی کے ڈراموں سے علیحدگی اختیار کرتی ہوں تو میں اپنی اور اسکی زندگی بہتر بنا سکتی ہوں۔

اگرچہ میرا دل اب بھی دکھتا ہے لیکن میں مستقل تکلیف میں نہیں رہتی۔ اب میں چوبیس گھنٹے سات دن خوف وہراس میں نہیں رہتی۔ اگرچہ میں اکثر اپنی بیٹی کے بارے میں سوچتی ہوں مگر میں اس کی ضروریات کی نسبت اپنی ضروریات پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں اپنے کرئیر پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں تکلیف سے نمٹنے کے بارے میں سیکھ رہی ہوں تاکہ میں اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان حاصل کرسکوں۔

میں ایک عام انسان ہوں جسے کامل بننے کے لئے بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ مجھے اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میری بے صبری کو کافی توجہ کی ضرورت ہے۔ جب میں اس پر اور اس جیسی دوسری کمزوریوں پر کام کرتی ہوں تو میں بہتر محسوس کرتی ہوں، نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ عمومی طور پر بہتر محسوس کرتی ہوں۔

آج کی سوچ:

جب میں پیار سے نشئی کے مسائل سے علیحدگی اختیار کرتی ہوں تو مجھے اپنے نقائص کو دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے۔ میں صرف ایک شخص کو بدلنے پر کام کررہی ہوں، جسے میں بدل سکتی ہوں، اور وہ ہے میری ذات۔


’’ہر کسی نے یہ کہاوت سُنی ہو گی، ’جو تم بوؤ گے وہی کاٹو گے۔‘ ظاہر ہے اگر ہم اپنی زندگی میں خوشی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خوشی کے بیج بونا سیکھنا ہوگا۔ اس لئے کرموں (karma) کا مطلب ہے شعوری طور پر پسندیدہ عمل کو منتخب کیا جائے۔‘‘ ~ دیپک چوپڑا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں