منگل، 1 ستمبر، 2015

میٹنگز


نارانون میٹنگز میں شامل ہونا میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ چاہے میں صرف حاضری لگانے اورخالی جگہ پُر کرنے جاؤں، یا اپنی کہانی بیان کروں، یا صرف سُنتا رہوں، میں میٹنگز میں جانے سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ میں فوری رائے قائم کرنے سے پرہیز کرنا اور متحمل رہنا سیکھتا ہوں۔ میں اُن لوگوں سے بھی سیکھتا ہوں جن سے سیکھنے کی مجھے کم توقع ہوتی ہے، حتی کہ نئے آنے والوں سے بھی۔

ایک بار ایک نووارد اپنی کہانی بہت تفصیل سے بیان کر رہی تھی، نشے میں ماونت کی وہ تمام چیزین جو وہ اپنے پیارے مریض کے ساتھ کر رہی تھی۔ اُس نے بتایا کہ آخر میں وہ بہت الجھن کا شکار تھی کہ ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑا اور نشئی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

میرے لئے یہ دیکھنا بہت آسان تھا کہ نشئی وہی سب کچھ کر رہا ہے جو ایک نشئی کرتا ہے اور وہ بھی وہی سب کچھ کر رہی ہے جو نشے میں معاونت کرنے والے کرتے ہیں۔ مجھے واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ غلطی اس لڑکی کی طرف سے ہے کہ وہ یہ توقع کر رہی ہے کہ اس کا رویہ نشئی کے رویے کو بدل دے گا۔

اچانک مجھے یاد آیا کہ اُسی دن صبح میں نے بھی اپنے آپ کو منطق دے کر یہ طے کیا تھا کہ میں اپنی زندگی میں موجود نشئی کے لیے کچھ ایسا خاص کروں کہ اسے اپنے رویے کے نتائج سے زیادہ پریشانی نہ اٹھانا پڑے۔ میں نے سوچا کہ میں نے نشئی کی مدد کے لئے ایسا حل نکال لیا ہے جو اسکی نشے میں معاونت نہیں کرے گا۔

جب میں نے اس نووارد کو بالکل وہی چیز کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جو میں کرنے کا سوچ رہا تھا تو مجھے واضح نظر آنے لگا کہ میری سوچ کتنی بیوقوفانہ تھی۔ میں اضطراری طور پر اپنا پرانا رویہ اختیار کرنے جا رہا تھا۔

آج کی سوچ:

جب میرا میٹنگ میں جانے کا دل نہ چاہ رہا ہو تو اسی وقت مجھے میٹنگ میں جانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جب مجھے یہ سوچ آئے گی کہ وہاں میں کوئی کام کی چیز نہیں سن رہا تو میں چیزیں غور سے سنوں گا۔ جب میں یہ سوچوں گا کہ میرے پاس بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو اس وقت میں شئیر کروں گا۔ میں میٹنگز میں جانے سے سیکھتا ہوں، سکھاتا ہوں اور بعض اوقات صرف وہاں ہونے کی مشق کرتا ہوں۔

’’ہر کسی کو ہر دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ ~ برٹولٹ بریخٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں