اتوار، 13 ستمبر، 2015

عزم

ہمارے مقامی نارانون ریجن میں ہم ایک سالانہ تقریب منعقد کرتے ہیں جسے ناراتھان کہتے ہیں، جو کنوینشن سے ملتی جلتی ہے۔ ناراتھان میں مختلف میٹنگز کے ارکان تقریر کرنے والوں سے طاقت، تجربات اور امید کی باتیں سُننے کےلئے اکٹھے ہوتے ہیں۔

میرے لئے ہمیشہ اپنے باقاعدہ گروپ کے علاوہ دیگر نارانون گروپس کے ارکان سے ملنے کا یہ ایک زبردست موقع ہوتا ہے۔ میں گزشتہ تین سال سے ناراتھان کی تقریب میں جا رہا ہوں اور ہر دفعہ میں اس سے وہ چیزیں حاصل کرتا ہوں جن کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سال بھی ایسی نعمت سے خالی نہیں تھا لیکن اس سال یہ نعمت میں نے ایک غیرمتوقع انداز میں حاصل کی۔

اس بار مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں ناراتھان کی تقریب میں تقریر کر سکتا ہوں؟ میرا فوری جواب ’’ہاں‘‘ میں تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ہان کہنے کے کچھ دیر بعد ہی میرے ذہن میں شک پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ کیا یہ میں کر سکتا ہوں؟ کیا میں وہاں کھڑا ہو سکتا ہوں اور اپنی کہانی شئیر کرسکتا ہوں؟

 میں جانتا ہوں کہ میں نے ہمیشہ تقریر کرنے والوں سے وہ چیزیں سنیں تھیں جن کی مجھے ضرورت تھی تو میں پریشان کیوں تھا؟ میں پروگرام کا بے حد شکر گزار ہوں۔ میں نے خود کو یاد کروایا کہ میں یہاں کتنا آگے آچکا ہوں اور ماضی کے بارے میں بات کرنے سے اور اپنے نارانون میں آنے کی وجہ بتانے سے میں جادوئی ذریعے اپنی پرانی حالت میں واپس نہیں جا سکتا، وہ شخص جو پروگرام کے بغیر تھا۔

 میں اپنی بالاتر طاقت کی دانش کی طرف مڑا اور اس سے درخواست کی کہ نتائج جو بھی ہوں وہ مجھے یہ کرنے کی ہمت دے۔ مجھے معلوم تھا کہ قطع نظر اس بات کہ میں نے جو کچھ بھی کہوں گا اور جیسے بھی بیان کروں گا، یہ بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا اسکو ہونا چاہیئے۔

جب میں نے تقریر کر لی تو مجھے اس بات سے بہت حوصلہ ملا کہ دوسروں کو یقیناً میری کہانی میں اپنے جیسے تجربات سننے کو ملے۔ ناراتھان ایک بہت اچھی تقریب ہے اور میں ان تمام خدمتگاروں کا شکر گزار ہوں جو ہر سال اسکے انعقاد کو یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

آج کی سوچ:

اپنی کہانی بیان کرتے رہو۔ کوئی تمہارے تجربے، استقامت اور اُمید سے فائدہ اُٹھائے گا۔


’’ہر شخص کی تکلیف اس کی اپنی پیدا کی ہوتی ہے۔‘‘ ~ دلائی لامہ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں