‏نشے کی لت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نشے کی لت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب

ہفتہ، 29 اگست، 2015

جذبات

میں نے نارانون میں سیکھا کہ جذبات صرف جذبات ہوتے ہیں۔ ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں انہیں پگھلانا شروع کردوں۔ میں اپنے جذبات کو محسوس کرنے کے لئے تیار تھا جنہیں میں نے کئی برسوں سے منجمند کیا ہوا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ منشیات کی لت کا سامنا اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔

مجھے احساس ہوا کہ اپنے کسی پیارے کا نشے کی لت میں مبتلا ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ اس شخص کی موت کو محسوس کر رہے ہوں۔ اور کچھ نہیں تو یہ اپنے ان خوابوں کی موت کو محسوس کرنے جیسا تھا جو میں نے اس کے ساتھ زندگی کے بارے میں دیکھے تھے۔ میری اداسی اور درد کے سارے جذبات امڈ آئے۔

مجھے معلوم ہے کہ میں انہیں کافی عرصے سے دبائے بیٹھا تھا۔ اب وقت تھا کہ میں اس نقصان کا ماتم کر کے اس ایک زندگی کو دوبارہ جینے کا آغاز کروں جو مجھے ملی ہے، میری اپنی زندگی۔ میں اپنی بحالی کا سفر شروع کرنے کے لئے تیار تھا۔

اگر دوسرے مدد مانگنے سے احتراز کریں اور نشے کو اپنی زندگی تباہ کرنے دیں، تو ٹھیک ہے۔ یہ مجھے اُداس کر دے گا؛ شاید یہ مجھے غصہ دلائے، مجھے اس سے نفرت محسوس ہو اور اس سے میرے دل میں درد اُٹھے۔ آج کے دن ان جذبات کو محسوس کرنا ٹھیک ہے، جب تک کہ میں ان کے ساتھ لمبے عرصے تک نہ رہوں۔

نارانون فیلوشپ کی مدد سے میں اپنا عزت و وقار برقرار رکھوں گا اور کسی نہ کسی خوشی کو تھامے رکھوں گا۔ میرا اطمینان ایسی چیزوں سے منسلک نہیں ہو گا جن پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے؛ بلکہ یہ میرے اندر سے آئے گا۔

آج کی سوچ:

میں کوشش کرنے کے لئے رضامند ہوں، اگرچہ مجھے کبھی کبھی ناکامی کا سامنا ہو گا۔ میں کامیاب بھی ہوں گا اور تھوڑی مزید کوشش کروں گا۔ ان سب کے دوران میں ترقی کروں گا۔ یہی وقت ہے جب مجھے اپنے ساتھ تحمل برتنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھے پروگرام پر عمل کرنے اور مستقل مزاجی سے میٹنگز میں شریک ہونے کی رضامندی کے باعث میں جلد ہی پہلے سے زیادہ مضبوط اور عقلمند ہو جاؤں گا۔

’’خود کو کم ہمتی کے جذبات کا شکار نہ ہونے دو؛ آخر میں تمہیں یقیناً کامیابی ملے گی۔‘‘ ~ ابراہم لنکن