‏بارہ اقدام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بارہ اقدام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 5 نومبر، 2015

سوچیں


نارانون میٹنگز میں جانے سے پہلے نشے کی لت نے میری ساری زندگی ضائع کر دی تھی۔ یہ کبھی ختم نہ ہونے والے نہ دور ہونے والے ایک بُرے خواب کی طرح تھا، جو مجھے رات کو آرام سے سونے نہیں دیتا تھا۔

میرا وزن کم ہوگیا کیونکہ میرے پیٹ میں ہر وقت گانٹھیں سی بنی رہتیں۔ میں نے اپنا دھیان نہیں رکھا۔ میری آمدن کم ہو گئی اور میں افسردہ اور مردہ دل سی ہو گئی۔ مجھے یہ ماننا ہوگا کہ میں نے نشے کی لت کو اپنے خاندان اور خود کو تباہ کرنے کی اجازت دی۔

اب میں نے نارانون کے ذریعے سیکھا ہے کہ میں اپنی زندگی کا کنٹرول واپس لے سکتی ہوں۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اگر میں نشئی کے اعمال کی وجہ سے بیمار رہوں گی تو میں اپنا اختیار کھو دوں گی۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں نشئی کو تنہا چھوڑ رہی ہوں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ میں خود کو مضبوط بنا رہی ہوں۔ میں نشئی کو پیار سے رہائی دے رہی ہوں۔

میں نے جانا کہ ابھی مجھے کافی کچھ سیکھنا ہے اور یہ کہ میں نے ابھی سیکھنے کا سفر شروع کیا ہے۔ میں اس پروگرام اور اس کے اصولوں اور طریقوں کی مدد سے ان رکاوٹوں پر قابو پا سکتی ہوں جو زندگی میں میرے سامنے آئیں گی۔

میں نے یہ بھی جانا کہ پہلا قدم ۔۔۔ یہ قبول کرنا کہ میں اس بیماری اور دوسروں کے سامنے بے بس ہوں ۔۔۔ مجھے خود پر اختیار دیتا ہے۔

آج کی سوچ:
اس بیماری میں کوئی مظلوم نہیں صرف سوائے اپنی مرضی سے مظلوم بننے والوں کے۔


’’چاہے تم یہ سوچو کہ تم یہ کرسکتے ہو یا یہ سوچو کہ تم یہ نہیں کرسکتے، تم درست ہو۔‘‘ ~ ہنری فورڈ

جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

نصیحت یا تقریر

گزشتہ شام ہماری میٹنگ کا موضوع ’’نصیحت‘‘ تھا۔ میں کئی برسوں سے نارانون پروگرام میں ہوں اور ’نصیحت‘ کا لفظ ہمیشہ مجھے اپنی زندگی میں موجود نشئی سے اپنے مکالموں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وہ میری نصیحت کو تقریر سمجھتا۔ جب میں نے یہ بات میٹنگ میں شئیر کی تو میں نے دیکھا کہ دوسروں نے رضامندی سے سر ہلایا۔

میں اور نشئی اپنے بحالی کے عمل میں ایسے مقام پر ہیں کہ میں نے نشئی سے کہا کہ جب وہ محسوس کرے کہ میں اُس کے سامنے تقریر کررہا ہوں تو مجھے بتا دے تاکہ میں اپنی اس شخصی خامی پر کام کر سکوں۔

میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اس قابل بنانے کے لئے خود کو وقت دے سکتا ہوں۔ میرے پاس کوئی جادوئی جواب نہیں ہیں۔ میں کتنی بھی خواہش کرلوں لیکن میں ایک دم سے اپنی پرانی عادتیں جانے نہیں دے سکتا۔

جب میں ان عمل کرنے کیلئے تیار ہوجاؤں گا تو بارہ اقدام میری مدد کیلئے موجود ہوں گے۔ میں اُنہیں اپنانے کی زبردستی نہیں کرسکتا۔ میں قبول کرتا ہوں کہ ایک دن میں ہر ایک قدم پر کام کرنے کیلئے تیار ہوں گا اور اس وقت میری بالاتر طاقت بھی میرے ساتھ ہوگی۔ میں شکرگزار ہوں کہ میرے پروگرام نے مجھے یہ احساس دلانے میں میری مدد کی۔

آج کی سوچ:

میرے پاس سب سوالوں کے جواب نہیں اوراس میں کوئی خرابی نہیں۔ آج میں اپنے پروگرام پر کام کروں گا اور صرف اسی وقت اپنی رائے اور تجویز پیش کروں گا جب مجھ سے پوچھا جائے گا۔ میں اپنی پرانی لیکچر دینے والی عادت کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔

’’نصیحت کو بہت کم لوگ خوش آمدید کہتے ہیں اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہوتی ہے وہ کم ہی اِسے پسند کرتے ہیں۔‘‘ لارڈ چیسٹر فیلڈ

پیر، 7 ستمبر، 2015

سکون کی طرف لے جانے والے اقوال

نارانون پروگرام کے بہت سے اقوال ہیں۔ اُن میں سے بہت سی کہاوتیں ایسی ہیں جنہیں میں نارانون پروگرام میں شرکت سے پہلے سُن چکا تھا۔ پروگرام میں آنے سے پہلے میں انہیں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

آج مجھے لگتا ہے کہ یہی سادہ اقوال مشکل حالات سے نمٹنے میں میری مدد کررہے ہیں۔ یہ سادہ مگر طاقتور جملے ہیں جو مجھے نارانون پروگرام کے کچھ انتہائی اہم اصول یاد رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ جس طرح ایک رکن نے ان کا اظہار نیچے دی گئی نظم میں کیا ہے:

پُرسکون ہو جاؤ میری روح، پُرسکون ہو جاؤ میرے ذہن
جان لو کہ میری بالاتر طاقت میری رہنمائی کرے گی
یاد رکھو ’’آسانی رستہ ہے‘‘
میں اسے کرسکتا ہوں ’’صرف آج کے دن‘‘
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو،‘‘
’’حال میں جینا ہے،‘‘
میں’’بغور سن اور سیکھ‘‘ سکتا ہوں
اگر میں ’’اپنا ذہن کھلا رکھوں۔‘‘
جب میں ’’اہم کام کو پہلے ترجیح دوں‘‘
تو میں’’جی سکتا ہوں اور دوسروں کو جینے دے سکتا ہوں۔‘‘
’’چیزوں کو سادہ رکھنا‘‘ بھول نہ جانا۔
اقوال بہت کچھ دے سکتے ہیں۔
صرف ’’سوچو،‘‘ ’’یہ کتنا اہم ہے؟‘‘
سکون کی تلاش میں،
اگرچہ میری بالاتر قوت میری رہنمائی کرے گی،
مگر ’’شروعات مجھ سے ہونی چاہیئے۔‘‘

آج کی سوچ:

میں نارانون پروگرام کے اقوال کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے مشق کروں گا۔ یہ اقوال ایک مشفق رہنما کی طرح مجھے پرانے مسائل اور حالات میں نئے ردعمل کو مننتخب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مجھے بہتر راستہ منتخب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ مجھے اپنے خوف سے بھی نمٹنے میں مدد کرتے ہیں جو اکثر میری عقل پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور مجھے خود کو بہتر بنانے کی جرأت سے روکتے ہیں۔

’’اقوال سیڑھیوں کے جنگلے کی طرح ہیں جنہیں پکڑ کر ہم بارہ اقدام کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔‘‘ ~ گمنام

بدھ، 2 ستمبر، 2015

ایک دفعہ کرکے تو دیکھو!

جب میں نے نارانون میٹنگز میں جانا شروع کیا تو ایک رکن جو کئی برس سے بارہ اقدام کے پروگرام میں تھا مجھے مسلسل یاد دلاتا کہ ’’یہ سب بارہ اقدام کے بارے میں ہے۔ ان اقدام کو استعمال کرو۔‘‘ میری حالت بھی اس نوجوان جنگجو کی سی تھی جو کسی نشئی کی شرانگیز سلطنت کو دھماکے سے اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا، جسے کہا جا رہا تھا ’’اقدام کو استعمال کر، بیٹے، اقدام کو استعمال کرو۔‘‘

میں اقدام پر عمل کرکے دیکھ سکتا ہوں، خود پر یہ ثابت کرسکتا ہوں کہ نارانون فیملی گروپ پروگرام، جس کا خلاصہ نارانون کے نیلے کتابچے میں دیا گیا ہے وہ میرے لیے معاون ہے۔ جو اس میں لکھا ہے وہ درست ہے۔ میں واقعی سکون اور اطمینان حاصل کر سکتا ہوں۔
میرے ساتھی رُکن نے تجویز دی کہ اگر میں بارہ اقدام پر خود عمل کرنے کے لیے تیار ہوں تو جو فائدہ اسے ہوا وہ مجھے بھی ہو سکتا ہے۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ میں اپنے تجربے سے سیکھ سکتا ہو کہ یہ سب سچ ہے۔ تجویز یہ تھی کہ میں اقدام پر عمل کروں، اوران اقدام کو خود پرکھوں۔

میں جانتا ہوں کہ سالہا سال کی مشق سے ان اقدام پر میرا اعتماد بڑھ چکا ہے اور میں اب بھی ان پر عمل پیرا ہوں۔ نویں قدم نے مجھے دنیا میں ہر انسان اور ہر چیز کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے میں مدد دی۔ اس سے مجھے ذہنی سکون ملا اور پچھتاوے کے احساس رہائی ملی۔

مجھے یہ پتا چلا کہ جب میں پروگرام کی تمام باتوں پر خلوصِ نیت سے عمل کرتا ہوں تو مجھے وہ فائدہ ملتا ہے جو پروگرام کہتا ہے کہ ملے گا۔ مختصر یہ کہ جب میں اس پر عمل کرتا ہوں تو یہ میرے لئے بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔

آج کا سوچ:

میں بیٹھ کر اقدام کے بارے میں جتنی مرضی رائے زنی اور بحث کروں کہ آیا اقدام اُسی طرح کام کریں گے جیسا کہ پروگرام کہتا ہے کہ نہیں، مگر میں کچھ نہیں سیکھ سکوں گا۔ تاہم اگر میں اس پر ایک دفعہ عمل کروں، اگر میں اُسے جانچوں، اگر میں پروگرام کی باتوں پر عمل کروں، لامحالہ طور پر میں دیکھوں گا کہ یہ اقدام اثر کرتے ہیں اور ان کی روحانی اہمیت پر میرا اعتماد غیر متزلزل ہو جائے گا۔

’’ابتدا اس چیز سے کرو جو کرنا لازمی ہو، پھر وہ کرو جو کرنا ممکن ہو، اور پھر اچانک تم ناممکن کام بھی کرنے لگو گے۔‘‘ ~ سینٹ فرانسس

پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب