بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بدلنا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

اپنا ذہن بدلنا

جب میں نے یہ الفاظ سُنے کہ ’’میں ایک نشئی ہوں اور مجھے مدد کی ضرورت ہے‘‘ میری زندگی ڈرامائی انداز میں بدل گئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں نے جس شخص سے شادی کی، میرا اچھا دوست اور روح کا ساتھی، اتنا گہرا راز رکھتا ہوگا۔
تین دن بعد جب میں پہلی نارانون میٹنگ میں آئی تو میں غصے اور تلخی سے بھری ہوئی تھی۔ میں خود کو ایک مظلوم کی طرح محسوس کررہی تھی اور اپنے شوہرکی بیماری کے بارے میں سوالات کے جواب شدت سے تلاش کر رہی تھی۔
میں وہ سب کچھ سیکھنا چاہتی تھی جو میں اس لت کوختم کرنے کیلئے کرسکتی تھی۔ مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی کے جس سب سے اہم شخص کے بارے میں سیکھوں گی وہ میں خود ہوں۔
نارانون نے مجھے سکھایا کہ میں خود کو دوبارہ جانچوں کہ میں کیسی شخصیت ہوں۔ میں نے میٹنگز میں جاتے ہوئے پُرسکون محسوس کرنا شروع کر دیا، خصوصاً جب  وہاں لوگوں سے میری جان پہچان ہوگئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ آخرکار میں نے ایک محفوظ جگہ پالی جہاں میں اپنے گہرے احساسات کے بارے میں بتا سکتی ہوں اور وہ محبت اور مدد حاصل کرسکتی ہوں جس کی مجھے ضرورت ہے؛ جہاں میں اپنے آپ کو کھوج سکتی ہوں اور ایک بہتر زندگی گزارنا سیکھ سکتی ہوں۔
ایک دن میٹنگ میں میں نے بتایا کہ میں اعتبار کے حوالے سے پریشان ہوں۔ میں نے اپنے شوہر پر مکمل طور اعتماد کھو دیا تھا۔ ایک ساتھی رُکن نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اس کو بھی بالکل ایسا ہی مسئلہ درپیش تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اس مسئلے کو یہ سوچ کر حل کیا کہ اُس کی مثبت سوچوں کے سچ ثابت ہونے کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جتنے اس کے بدترین خدشات کے سچ ثابت ہونے کے تھے۔
میں نے اُس کا پیغام  سمجھ لیا اور اپنے شوہر کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دینا شروع کر دی۔ اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے میں اچھا محسوس کرنے لگی۔ میرے شوہر نے یہ خوفناک راز طویل عرصے سے چھپایا ہوا تھا مگر اپنے رویے میں تبدیلی کی وجہ سے میں نے یہ محسوس کرنے کی بجائے کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے شکرگزار رہنا شروع کر دیا کہ میرے شوہر نے نشے کی بیماری کا سامنا کیا اور مدد مانگی۔
آج کی سوچ:
’’آج کے دن آج‘‘ اور’’چھوڑ دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ میرے پسندیدہ اقوال ہیں۔ یہ مجھے اپنی مثبت سوچ کے ساتھ رابطے میں رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ نارانون مجھے میری بالاتر طاقت کے ساتھ رابطہ رکھنے میں مدد کرتی ہے جس کا مجھے اس پروگرام میں آنے سے پہلے کوئی تصور نہیں تھا۔

’’میرے وقت کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ انسان اپنے ذہنی رویوں کو بدل کر اپنی زندگیاں بدل سکتے ہیں۔‘‘ ~ ولیم جیمز

پیر، 21 ستمبر، 2015

آگاہی عمل کو جنم دیتی ہے

ایک دن تباہ کن آگاہی نے میری زندگی بدل دی۔ میں کام کررہی تھی اور میرے بچے سکول میں تھے جب مجھے اپنے گھر میں منیشات کے استعمال کے بارے میں معلوم ہوا۔ نشہ میری زندگی میں بھی آہستہ سے شامل ہو گیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔

چرس کا بے جا استعمال میرے عزیز کو زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا فریب بھرا راستہ فراہم کرتا۔ ہیروئین کے غلط استعمال سے وہ بے حس و حرکت کئی گھنٹوں تک سویا پڑا رہتا۔ چرس کے عادی شخص کا رویہ بھی پُرتشدد ہو جاتا۔ میرے اہلِخانہ میں منشیات کا استعمال میرے لئے ایک نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک حققیت ہے۔

نارانون تک پہنچنے سے پہلے میں اپنے ماضی اور اپنے عزیزوں کی نشے کی عادت پر توجہ دینے میں پھنسی ہوئی تھی۔ میری خواہش تھی کہ میرے گھر کے افراد پہلے جیسے پیار کرنیوالے اور مہربان ہو جائیں۔ میں اس اعتماد، ہنسی اور تفریح کو بھی یاد کرتی جس سے کبھی ہم لُطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

جب میں نے دوسروں کو نارانون میٹنگ میں اپنی کہانی بیان کرتے سُنا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اس افسردہ اور پریشان کرنے والی حقیقت میں اکیلی نہیں ہوں۔ میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں اپنا ماضی، دوسرے لوگوں یا چیزوں کو نہیں بدل سکتی لیکن میں خود کو بدل سکتی ہوں۔ مجھے ایک خوشگوار آگاہی اور نئی اُمید کا احساس ہوا۔

اپنے پروگرام پر کام جاری رکھتے ہوئے میں نے اپنے دکھ اور خوشیاں دوسروں سے بانٹنا سیکھا۔ اب میں روزانہ اپنی پرانی ناراضگیوں کو جانے دینے کی مشق کرتی ہوں۔ ہر روز میں اپنی توجہ خود پر اور اپنی زندگی میں مثبت چیزوں پر مرکوز کرتی ہوں۔

میرے لئے سب سے فائد مند علاج نارانون پروگرام ہے۔ اب میں کسی پریشانی اور پچھتاوے کے مزید مستقل اضطراب میں نہیں ہوں۔ بارہ اقدام پر کام کرکے اور میٹنگز میں باقاعدگی سے جا کر میں نے ہر نئے دن کو اپنے دل میں اطمینان اور سکون کے ساتھ قبول کرنا سیکھا۔

آج کی سوچ:

آگاہی کسی بھی مسئلے کو پہچاننے میں پہلا قدم ہے اور پس یہی مثبت تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔ جب تک میں کسی مسئلے کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گی میں اُسے حل کرنے کے لئے مناسب کارروائی نہیں کر سکتی۔ مجھے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں صرف وہ کر سکتی ہوں جو میرے لئے ٹھیک ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔

’’آج میں ہر آگاہی کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے حاصل ہوتی ہے۔ جب زندگی میری توجہ حاصل کرے گی تو میں شکر، سکون اور وقار کا مظاہرہ کروں گی۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی