جب میں نارانون میٹنگ میں آئی تھی تو اُلجھن کا
شکار تھی اور اپنے مریض کو بحالی میں لانے کے لیے بے چین تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ
یہ ہمارے تمام مسائل کا حل تھا۔
میں نے پروگرام کی تحریریں پڑھیں اور سنا کہ اس
پروگرام پر کام کرنے کے لئے اس کے اقدام پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ مجھے یہ بہت آسان لگا کہ مجھے اعتراف کی ضرورت
ہے کہ میرے مریض کو ایک مسئلہ درپیش ہے اور پھر میں روحانی طور پر بیدار ہوجاؤں گی۔ پھر اس روحانی بیداری کو
حاصل کرنے کے بعد ہماری زندگی معمول پرآ جائے گی۔
آج کی دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ نارانون میں آنے سے پہلے
میری زندگی بھی ایسی ہی تھی۔ ہمیشہ کاموں کو نمٹانے کی جلدی، ہمیشہ ہر ایک کے
مسائل حل کرنے کی جلدی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔
مجھے جلد ہی پتہ چل گیا کہ نتائج ہمیں سبق سکھاتے ہیں اور مجھے بھی اپنے مریض کے
ساتھ ان اسباق کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اپنی بالاتر طاقت کے منصوبے کے مطابق میں نے
پروگرام کو اپنایا اوراس کے اقدام پر عمل کیا۔ میں نے پایا کہ میں درمیان والے قدموں پر
کام کیے بغیر پہلے قدم سے بارہویں قدم تک چھلانگ
نہیں لگا سکتی۔ میرا کام ابھی جاری ہے، اور اس کے باوجود کہ مجھ میں روحانی بیداری آئی
ہے میں نارانون پروگرام کے ساتھ اپنا تعلق کبھی ختم نہیں کروں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ
تبدیلی آہستہ آہستہ ہی آ سکتی ہے۔
آج کی سوچ:
نشے کے مریض کی وجہ سے مجھے ایک صحتمند شخص بننے
کے لئے ایک پروگرام ملا۔ میں شاید اس پر مکمل عمل نہ کر پاؤں مگر یہ میرے پاس ہمیشہ
موجود ہو گا۔
’’جب میں اتنا آہستہ ہو جاتی ہوں کہ گلابوں کی
خوشبو سونگھ سکوں تو عموماً میں اردگرد پھیلی خوبصورتی کو بھی دیکھتی ہوں جو ہم سب
کے لیے ہے۔‘‘ ~ مورگن
جیننگز
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں