نارانون پروگرام میں آنے سے پہلے مجھے کبھی احساس
نہیں ہوا تھا کہ میں بہت اکیلی اور تنہا ہوں۔ میں اپنا وقت اکیلے گزارتی کیونکہ میرے
خیال میں کوئی بھی مجھے یا میرے مسائل کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ میں نے نارانون
پروگرام پر کام کرنا شروع کیا، اس کے اقدام کو اپنی مشکلات میں استعمال کرنا شروع
کیا تو چیزیں بہتر ہونا شروع ہو گئیں۔
میں نے الگ تھلگ رہنا چھوڑ کر خدمت کے کاموں میں
حصہ لینا شروع کر دیا۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ درحقیقت میں کبھی
بھی اکیلی نہ تھی۔ میرے ساتھ ہمیشہ سے ایک
بالاتر طاقت موجود تھی۔ یہ جاننے کے بعد میں اکیلی تو ہو سکتی ہوں مگر تنہا نہیں۔
میں ہمیشہ اپنی سوچیں، مشکلات اورخوشیاں اپنی بالاتر طاقت کو بتا سکتی ہوں۔
کچھ عرصہ پہلے میں ایک پہاڑ کے نیچے کھڑی تھی اور جب میں نے اوپر دیکھا تو
رونا شروع کر دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر کچھ بدل رہا ہے۔ میں بہت دوستانہ،
قبول کرنے والی، بے پرواہ اور پر سکون ہو رہی تھی۔ اب بہت کم چیزیں مجھ سے میرا سکون
نہیں چھین سکتی ہیں۔
میں نارانون پروگرام پر کام اور خدمت کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہوں۔ نارانون
سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے لیے بہت اہم بن چکے ہیں۔ میں ماضی کی نسبت آج زیادہ
محبت دے اور لے سکتی ہوں اور زیادہ ہنستی ہوں۔
آج کی سوچ:
جب میں نے یہ مان لیا کہ میرے پاس مجھ سے بڑی ایک طاقت موجود ہے تو مجھے احساس
ہوا کہ میں کبھی تنہا نہیں ہوں۔ اپنی بے بسی کے اعتراف نے مجھے اس خیال سے آزاد کر
دیا ہے کہ ہر چیز میری ذمہ داری ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ میرے بچے اب والدین بن
گئے ہیں اور میں خود کو آزاد روح محسوس کرتی ہوں۔
’’اور جب میں تنہا ہوتی ہوں تو مجھے ایک بالاتر طاقت کی مدد اور تشفی حاصل
ہوتی ہے جو مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی۔‘‘ ~ کریج ٹو چینج (تبدیل ہونے کی
ہمت)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں