جمعرات، 28 مئی، 2015

کبھی تنہا نہیں


جب میں پہلی مرتبہ نارانون کی میٹنگ میں آیا تو مجھے اس پروگرام کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات تھے۔ میرا خیال نہیں تھا کہ پروگرام یا اس کے ارکان میری مدد کر سکتے تھے۔ وہ کیسے میرے حالات، ذہنیت اور مایوسی کے عمومی احساس کو بدل سکتے تھے؟ مجھے یقین تھا کہ نارانون کی میٹنگ بھی  ایسے لوگوں کا ایک گروپ تھا جو میری جدوجہد کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ میں وہاں جاؤں گا اور یہ ثابت کروں گا کہ میری سوچ اور زاویہ نظر درست تھا۔ جب میں نے وہاں لوگوں کی  باتیں سنی تو اس کے برعکس ہوا۔

ایک کے بعد ایک، میں نے ان میں سے ہر ایک کو بہت سے وہی واقعات، وہی ناکامیاں، اسی تذبذب  اورآزردگی  کے بارے میں بات کرتے سنا جن میں سے میں گزر رہا تھا۔ میں یہ جان کر بہت حیران ہواکہ میں اس جدوجہد میں اکیلا نہیں ہوں۔ یہ سب باتیں مجھے اتنی ذاتی لگتی تھیں کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ ان کا تعلق صرف مجھ سے ہے۔یہ میری بیداری کا  تجربہ تھا۔ میں نے سنا کہ جس تکلیف میں  میں مبتلا تھا، دوسرے بھی اسی درد سے دوچار تھے، اور ہمارے پاس ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر چل کر میں اپنی زندگی میں کچھ ذہنی صحت، امن اور سکون کو لا سکتا ہوں۔

آج کی سوچ

میں جتنا زیادہ دوسرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مجھے اتنا ہی زیادہ احساس ہوتا کہ میں کتنا بے اثر ہوں۔ میں جتنا زیادہ اپنے آپ کو الجھ لیتا ہوں ، اتنا ہی زیادہ میری بےچینی غالب آجاتی ہے اور میرا سارا موڈ ڈپریشن میں بدل جاتا ہے۔ جب میں اپنے پروگرام پر عمل کرتا ہوں تو زندگی کی پیچیدگی بہت کم ہو جاتی ہے۔ آج کے دن میں چیزوں  کو سادہ رکھوں گا اور اس بات سے خوش رہوں گا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔

’’اپنا ذہن کھلا رکھیں اور جتنی میٹنگز میں جا سکیں جائیں۔ اپنی بات کہیں اور میٹنگ کے بعد سوال پوچھیں۔ آپ بہت جلد نئے دوست بنا لیں گے اور اپنے آپ کو اس گروپ کا حصہ سمجھیں گے۔‘‘ ~ نار انون کا نیلا کتابچہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں