جب میں پہلی مرتبہ نار انون میٹنگ میں آیا تو جن چیزوں نے
سب سے پہلے مجھے متوجہ کیا ان میں سے ایک یہ چیز تھی کہ نار انون کے جو اراکین سب
سے پر سکون نظر آتے تھے وہ’ جانے دینے‘ کے بارے میں بہت شیئرنگ کرتے تھے۔ اگر ان
کے اردگرد بہت افراتفری اور انتشار بھی ہوتا تو وہ پھر بھی وہ جانے دینے اور اپنی
ذہنی صحت اور سکون قائم رکھنے کے لیے اپنی بالا تر طاقت پر اعتماد کرنے کی بات
کرتے۔
میں سیکھ رہا ہوں کہ مجھے باتوں، چیزوں اور لوگوں سب کو جانے دینا ہے۔ مثلاً مجھے پبلک ریل گاڑی،
جس پر بیٹھ کو میں روزانہ کام پر جاتا ہوں، پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ مجھے اس بات پر کوئی اختیار نہیں کہ ریل گاڑی
مجھے وقت پر کام پر پہنچائے گی یا نہیں۔ اسی طرح مجھے معلوم ہےکہ میرا اپنے نشے کے
مریض پر کوئی اختیار نہیں۔ ایک نار انون کے رکن نے مجھ سے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’جب
چیونٹیاں ہماری ٹانگوں پر چڑھائی کر رہی ہوں تو ہمیں ہاتھیوں کو جانے دینا
چاہیئے۔‘‘
اگر میں جھکنے کے لیے تیار ہو جاؤں تو کیا یہ ممکن ہے کہ
میری زندگی کا ایک بہتر منصوبہ موجود ہو؟
آج کی سوچ
میں نے دیکھا ہے کہ جب میں جانے دیتا ہوں اور خدا کو کرنے دیتا ہوں (Let Go and Let God) تو میں امن و سکون پاتا ہوں۔ جب
میں اپنی بالا تر طاقت کو اپنی زندگی کا
اختیار سونپ دیتا ہوں تو بہت دفعہ نتیجہ بہت بہتر نکلتا ہے۔
’’ہم نے دیکھا ہے کہ ان قدموں پر کام کرنے سے آپ کسی بھی
مشکل کا حل نکال سکتے ہیں۔‘‘ نار انون نیلا کتابچہ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں